Business
امریکہ ایران مذاکرات اور خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کا اسٹاک مارکیٹ پر اثر
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے نئے دور اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ممکنہ معاہدے کی امیدوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ تیل کی قیمتیں گرنے کے مثبت اثرات سے امریکی حصص بازار (اسٹاک مارکیٹ) میں تیزی دیکھی گئی اور تمام اہم انڈیکسز بلند سطح پر بند ہوئے۔
عالمی منڈی میں گزشتہ روز تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ دیکھنے میں آئی جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور اور خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امیدیں ہیں۔ رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً سات فیصد تک کمی واقع ہوئی جو گزشتہ تین ہفتوں کی کم ترین سطح ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اس اچانک کمی نے عالمی توانائی منڈی کو ایک نیا رخ دے دیا ہے اور سرمایہ کاروں میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے۔تیل کی منڈی میں اس بڑی تبدیلی کے براہ راست اثرات امریکی حصص بازار (اسٹاک مارکیٹ) پر مرتب ہوئے۔ خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث سرمایہ کاروں کے حوصلے بلند ہوئے اور امریکی مارکیٹ تیزی کے ساتھ مثبت زون میں بند ہوئی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ توانائی کی لاگت کم ہونے سے صنعتی پیداوار اور مہنگائی کے دبائو میں کمی آئے گی، جس سے مجموعی طور پر امریکی معیشت کو سہارا ملے گا۔ اس پیش رفت نے ظاہر کیا ہے کہ کس طرح بین الاقوامی سیاسی تعلقات اور سفارتی کوششیں عالمی معیشت اور تجارتی مارکیٹوں کو فوری طور پر متاثر کرتی ہیں۔دوسری جانب، سیاسی و اقتصادی مبصرین کا ماننا ہے کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات میں کسی بھی قسم کی بہتری مشرق وسطیٰ میں امن اور تجارتی بحالی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تجارتی بحری راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے سے متعلق خدشات کے خاتمے اور بات چیت کے دروازے کھلنے سے کاروباری حلقوں میں ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا انحصار اس امر پر ہوگا کہ دونوں ممالک کے مابین جاری یہ سفارتی عمل کس حد تک عملی اور پائیدار معاہدے کی شکل اختیار کرتا ہے۔