LIVE
Loading Breaking News...

سعودی آرامکو منافع 44 فیصد اضافہ، تیل کی عالمی منڈی پر اثرات

News Image
سعودی آرامکو نے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں شدید مشکلات کے باوجود دوسری سہ ماہی میں 44 فیصد منافع کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے اسے تاریخ کا سب سے بڑا سپلائی شاک قرار دیتے ہوئے یانبو پائپ لائن کے کردار کو سراہا ہے۔
عالمی توانائی کے شعبے میں سعودی آرامکو نے ایک بار پھر اپنی مضبوط مالی پوزیشن ثابت کر دی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق کمپنی نے دوسری سہ ماہی کے دوران اپنے منافع میں 44 فیصد شاندار اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ یہ کامیابی ایک ایسے وقت میں حاصل ہوئی ہے جب عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے ہیں اور ایران کی جانب سے جاری تناؤ کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں نقل و حمل متاثر ہو رہی ہے۔ کمپنی کا ایڈجسٹ شدہ خالص منافع 33.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو عالمی منڈیوں میں آرامکو کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس غیر معمولی کارکردگی کے پیچھے سب سے اہم عنصر یانبو پائپ لائن ہے جس نے آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر اہم کردار ادا کیا ہے۔ آرامکو کی حکمت عملی نے ثابت کیا ہے کہ وہ کسی بھی جغرافیائی سیاسی بحران کے دوران بھی اپنی سپلائی چین کو مستحکم رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یانبو پائپ لائن نے نہ صرف تیل کی ترسیل کو جاری رکھا بلکہ مارکیٹ میں پیدا ہونے والی ممکنہ قلت کو بھی دور کرنے میں مدد فراہم کی۔ سعودی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے تاریخ کا سب سے بڑا تیل کی سپلائی کا جھٹکا قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں سپلائی کے شدید دباؤ کے باوجود کمپنی نے اپنی پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھا ہے تاکہ دنیا کو توانائی کی فراہمی میں خلل نہ پڑے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں جہاں توانائی کی قیمتیں اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں، آرامکو کی جانب سے یہ منافع کمپنی کی آپریشنل کارکردگی اور بہترین منصوبہ بندی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ اگرچہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے تیل کی عالمی منڈیوں کو خوف میں مبتلا کر رکھا ہے، لیکن آرامکو کے بروقت فیصلوں اور متبادل راستوں کے استعمال نے سعودی عرب کی معیشت کو محفوظ رکھا ہے۔ آنے والے وقتوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا کمپنی اس رفتار کو برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔ فی الحال، یہ اعداد و شمار عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثبت اشارہ ہیں کہ توانائی کا سب سے بڑا ادارہ ہر قسم کے مشکل حالات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔