LIVE
Loading Breaking News...

فلپائن کی BPO انڈسٹری میں AI کا اثر اور ورکرز کے خدشات

News Image
فلپائن کی آؤٹ سورسنگ انڈسٹری میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ہزاروں ورکرز کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہے۔ کارکنان کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے ان کے روزگار کے ذرائع تیزی سے محدود ہو رہے ہیں۔
فلپائن کی مشہور آؤٹ سورسنگ انڈسٹری اس وقت ایک شدید تکنیکی اور معاشی بحران سے گزر رہی ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت (AI) نے روایتی نوکریوں کی جگہ لینا شروع کر دی ہے۔ ملک کے بڑے کاروباری مراکز میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ خود کو ایسے دوراہے پر کھڑا محسوس کرتے ہیں جہاں ان کا مستقبل غیر یقینی ہو چکا ہے۔ ایک ورکر کے الفاظ میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے اپنی قبر خود کھود لی ہو، کیونکہ ہم نے ہی ان سسٹمز کو تربیت دی ہے جو اب ہماری جگہ لے رہے ہیں۔ آؤٹ سورسنگ یا بی پی او انڈسٹری فلپائن کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، جو لاکھوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ لیکن اب کمپنیاں اخراجات کم کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے ٹولز کو ترجیح دے رہی ہیں۔ کسٹمر سپورٹ، ڈیٹا انٹری اور دیگر تکنیکی خدمات میں اے آئی بوٹس اور آٹومیشن کا استعمال دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے انسانی عملے کی ضرورت کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس صورتحال نے ملک بھر کے ورکرز میں خوف و ہراس پھیلادیا ہے اور وہ اپنے روزگار کے تحفظ کے لیے حکومتی مداخلت اور نئی پالیسیاں بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ورکرز کو جدید تکنیکی مہارتیں سیکھنا ہوں گی تاکہ وہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔ بصورت دیگر، آؤٹ سورسنگ کے شعبے میں بے روزگاری کا ایک طوفان آ سکتا ہے جو نہ صرف انفرادی خاندانوں بلکہ پوری ملکی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔