LIVE
Loading Breaking News...

بھارتی خواتین کا احتجاج: سوشل میڈیا پر ہراسانی اور ڈوکسنگ کے سنگین واقعات

News Image
بھارت میں حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی خواتین کو آن لائن مہم کے دوران بدترین ہراسانی اور ڈوکسنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ متاثرہ خواتین نے بی بی سی کو انکشاف کیا کہ انہیں سوشل میڈیا پر تذلیل اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بھارت میں حال ہی میں سامنے آنے والے ایک انتہائی افسوسناک واقعے میں ان خواتین کو شدید آن لائن ہراسانی اور ڈوکسنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے جنہوں نے سی جے پی (CJP) کے زیر اہتمام ایک احتجاج میں شرکت کی تھی۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ احتجاج کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر بدترین تذلیل اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، جہاں انہیں 'کاکروچ' جیسے تضحیک آمیز ناموں سے پکارا گیا اور ان کی ذاتی معلومات انٹرنیٹ پر وائرل کر دی گئیں۔ یہ عمل، جسے تکنیکی زبان میں 'ڈوکسنگ' کہا جاتا ہے، ان خواتین کی سیکیورٹی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ خواتین نے بتایا کہ انہیں نہ صرف جنسی بنیادوں پر تذلیل کا نشانہ (Slut-shaming) بنایا گیا بلکہ ان کے خاندانوں کو بھی دھمکیاں دی گئیں۔ احتجاج میں حصہ لینے والی ایک خاتون نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر اور ناموں کے ساتھ منفی پروپیگنڈا شروع کر دیا گیا جس کا مقصد ان کی آواز کو دبانا اور دیگر خواتین کو عوامی مقامات پر احتجاج سے روکنا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ بھارت میں آن لائن پلیٹ فارمز کو کس طرح مخالفین اور خاص طور پر خواتین کی آواز کو کچلنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں اس طرح کی آن لائن بدسلوکی کسی بھی معاشرے کے لیے ایک المیہ ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت سائبر ہراسانی کو روکنے کے لیے سخت قوانین کا اطلاق کرے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز مواد اور خواتین کے خلاف تذلیل آمیز مہمات کو روکنے کے لیے مزید موثر اقدامات کریں، تاکہ کوئی بھی خاتون اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہوئے خوفزدہ نہ ہو۔ یہ واقعہ نہ صرف متاثرہ خواتین کی زندگی پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے بلکہ جمہوریت میں احتجاج کے بنیادی حق پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سوشل میڈیا پر ہونے والی یہ بدسلوکی اب ایک عالمی تشویش بن چکی ہے جہاں ٹرولز کا ایک منظم گروہ کسی بھی تنقیدی آواز کو دبانے کے لیے ذاتی حملوں کا سہارا لیتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس طرح کی ڈوکسنگ اور ہراسانی میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائیں تاکہ خواتین کو آن لائن اور حقیقی دنیا دونوں میں محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔