LIVE
Loading Breaking News...

مار ٹیک اسٹیک 2026 اور مصنوعی ذہانت کا کردار

News Image
مارکیٹنگ ٹیموں کی طرف سے ٹیکنالوجی کا انتخاب کرتے وقت سب سے بڑی غلطی فیچرز کی فہرستوں کے پیچھے بھاگنا ہے۔ 2026 میں اصل کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ مارکیٹنگ کے آلات کو ٹھوس نتائج سے کیسے جوڑا جائے۔
مارکیٹنگ کی دنیا میں ٹیکنالوجی کا استعمال روز بروز بڑھتا جا رہا ہے لیکن مارکیٹنگ ٹیموں کی طرف سے مار ٹیک (Martech) ٹولز کا جائزہ لیتے وقت سب سے بڑی غلطی یہ کی جاتی ہے کہ وہ محض فیچرز کی فہرستوں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ مثال کے طور پر 'اے آئی سے چلنے والے ایٹریبیوشن' جیسے الفاظ سے متاثر ہو کر ایسے آلات خرید لیے جاتے ہیں جو طویل مدت میں کوئی خاص معاشی فائدہ نہیں پہنچاتے۔ سن 2026 کے مار ٹیک اسٹیک کے فاتح وہ ادارے ہرگز نہیں ہوں گے جن کے پاس سب سے زیادہ یا پیچیدہ ترین مصنوعی ذہانت کے ٹولز ہوں گے، بلکہ کامیابی کا دارمدار اس بات پر ہوگا کہ کون سا ادارہ اپنے ہر ایک ٹول کو ایک واضح اور ٹھوس کاروباری نتیجے سے جوڑتا ہے۔ آج کے دور میں مارکیٹنگ لیڈرز کو اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ آیا کوئی نیا سافٹ ویئر ان کے اہداف کو حاصل کرنے میں عملی طور پر مددگار ثابت ہو رہا ہے یا نہیں۔ ماہرین کے مطابق، مارکیٹنگ کے شعبے میں ٹولز کی بھرمار نے کارکردگی کو بہتر بنانے کے بجائے اکثر اوقات پیچیدگیاں پیدا کی ہیں۔ بہت سے برانڈز صرف اس لیے جدید ترین اے آئی فیچرز خرید لیتے ہیں کیونکہ وہ مارکیٹ میں فیشن بن چکے ہیں، نہ کہ اس لیے کہ انہیں اس کی فوری ضرورت ہوتی ہے۔ سن 2026 کے لیے مار ٹیک کے روڈ میپ میں یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ حکمت عملی کو ٹیکنالوجی پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔ جب تک ٹیمیں کسی ٹول کی خریداری سے پہلے اس کے حتمی اور معاشی نتائج کا تعین نہیں کریں گی، تب تک بڑی سرمایہ کاری کے باوجود مطلوبہ نتائج کا حصول مشکل رہے گا۔ اس لیے یہ وقت اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ مارکیٹنگ کے بجٹ کا استعمال انتہائی سوچ سمجھ کر کیا جائے اور غیر ضروری فیچرز کے بجائے کارکردگی اور پیداواری صلاحیت کو ترجیح دی جائے۔ دوسری جانب، جو کمپنیاں اپنے مار ٹیک اسٹیک کو آسان اور نتیجہ خیز بنانے میں کامیاب ہوں گی، وہی طویل المدتی مارکیٹ لیڈر بن کر ابھریں گی۔ اس تبدیلی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مصنوعی ذہانت کی اہمیت کم ہو گئی ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے آئی کو ایک معجزاتی حل سمجھنے کے بجائے ایک مخصوص اور عملی آلے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ آنے والے سالوں میں مارکیٹنگ کے پیشہ ور افراد کو اپنے ٹولز کا آڈٹ کرنا ہوگا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون سا سافٹ ویئر اصل میں گاہکوں کے تجربے کو بہتر بنا رہا ہے اور کون سا صرف پیسے کا ضیاع ہے۔ نکسورا نیوز اردو کے مطابق، جو ادارے اس حقیقت کو سمجھ لیں گے کہ ٹیکنالوجی کی تعداد نہیں بلکہ اس کا درست استعمال اصل کامیابی کی ضمانت ہے، وہی آنے والے دور میں مارکیٹنگ کی صنعت پر راج کریں گے۔