Technology
کوانٹم کمپیوٹنگ کا بٹ کوائن پر اثرات: کیا بٹ کوائن ختم ہونے والا ہے؟
آئی بی ایم کے سی ای او اروند کرشنا نے خبردار کیا ہے کہ کوانٹم کمپیوٹنگ کی تیزی سے ترقی بٹ کوائن جیسی کرپٹو کرنسیوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ اس وارننگ کے بعد معروف مالیاتی تجزیہ کار جم کریمر نے بھی بٹ کوائن میں اپنی سرمایہ کاری اور مستقبل کے حوالے سے نظر ثانی شروع کر دی ہے۔
مشہور امریکی ٹیلی ویژن میزبان اور مالیاتی تجزیہ کار جم کریمر نے حال ہی میں بٹ کوائن کے مستقبل پر اپنے موقف میں تبدیلی کا عندیہ دیا ہے، جس کی بنیادی وجہ آئی بی ایم کے سی ای او اروند کرشنا کی جانب سے دی گئی حالیہ وارننگ ہے۔ اروند کرشنا، جو کوانٹم کمپیوٹنگ جیسی جدید ترین ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرکردہ کمپنی کی قیادت کر رہے ہیں، نے خبردار کیا ہے کہ کوانٹم کمپیوٹنگ کی غیر معمولی صلاحیتیں آنے والے چند برسوں کے اندر کرپٹو کرنسیوں، خاص طور پر بٹ کوائن کی سیکیورٹی کے لیے ایک سنگین خطرہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ روایتی انکرپشن جو آج ڈیجیٹل اثاثوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے، کوانٹم کمپیوٹرز کی زد میں آ کر بے اثر ہو سکتی ہے۔
کوانٹم کمپیوٹنگ ایک ایسی انقلابی ٹیکنالوجی ہے جو پیچیدہ ترین گنتیاں چند سیکنڈوں میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اروند کرشنا کے مطابق یہ ٹیکنالوجی موجودہ بلاک چین نیٹ ورکس کی بنیاد کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔ اگر کوانٹم کمپیوٹرز کی طاقت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ موجودہ سیکیورٹی پروٹوکولز کو توڑ سکیں، تو اس کے نتیجے میں بٹ کوائن کے نیٹ ورک میں موجود نجی کلیدوں (Private Keys) اور ٹرانزیکشنز کی حفاظت پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ یہ خدشہ بٹ کوائن کے ان سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث ہے جو اسے ایک محفوظ ڈیجیٹل اثاثہ سمجھتے ہیں۔
جم کریمر، جو ماضی میں کرپٹو مارکیٹ کے بارے میں مختلف رائے رکھتے تھے، اب اس نئی تکنیکی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے سرمایہ کاری کے فیصلوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔ کریمر کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ماہرین کی جانب سے دی گئی یہ وارننگ نظر انداز کرنے کے قابل نہیں ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر کرپٹو کرنسیوں کو طویل مدت تک برقرار رہنا ہے تو انہیں خود کو کوانٹم حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے فوری طور پر اپنے انکرپشن معیار کو اپ گریڈ کرنا ہوگا۔ اس صورتحال نے کرپٹو کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس میں ٹیکنالوجی کے ماہرین اور مالیاتی تجزیہ کار اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کیا بٹ کوائن کو واقعی کوانٹم دور میں بقا کا خطرہ لاحق ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تبدیلی راتوں رات رونما نہیں ہوگی، بلکہ اس کے لیے ابھی وقت موجود ہے، تاہم کرپٹو انڈسٹری کے لیے یہ ایک 'جاگنے کی کال' ہے۔ اگر بٹ کوائن کے نیٹ ورک میں بروقت کوانٹم ریزسٹنٹ الگورتھم شامل نہیں کیے گئے تو مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہو سکتی ہے۔ فی الحال سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اس تکنیکی پیش رفت پر کڑی نظر رکھیں کیونکہ آنے والے دنوں میں ڈیجیٹل اثاثوں کا پورا منظر نامہ کوانٹم کمپیوٹنگ کے زیر اثر تبدیل ہو سکتا ہے۔