Technology
ایف ٹی سی کی اے آئی پالیسی پر تنقید: الیکٹرانک فرنٹیئر فاؤنڈیشن کا مؤقف
الیکٹرانک فرنٹیئر فاؤنڈیشن نے فیڈرل ٹریڈ کمیشن کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے مجوزہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ یہ تجویز کردہ پالیسی ناقص ہے اور اسے فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔
معروف حقوقِ ڈیجیٹل کی تنظیم الیکٹرانک فرنٹیئر فاؤنڈیشن (EFF) نے فیڈرل ٹریڈ کمیشن (FTC) کی جانب سے جولائی میں جاری کی گئی مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق مجوزہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ پالیسی بیان، جس کا عنوان 'مصنوعی ذہانت کے نظام میں درستگی کو دبانے سے متعلق' ہے، ٹیکنالوجی ماہرین اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے درمیان بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ تنظیم کا واضح مطالبہ ہے کہ اس گمراہ کن اور غیر مؤثر پالیسی کو فوری طور پر واپس لیا جائے کیونکہ یہ صارفین کے حقوق کے تحفظ کے بجائے ٹیکنالوجی کی ترقی میں رکاوٹ کا باعث بن سکتی ہے۔
تنظیم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فیڈرل ٹریڈ کمیشن کو اپنی بنیادی ذمہ داریوں اور اپنے مشن پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کی پالیسیاں نہ صرف پیچیدہ ہیں بلکہ ان کے نفاذ سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تحقیق و ترقی کے عمل میں جمود پیدا ہو سکتا ہے۔ EFF کا مزید کہنا ہے کہ ایف ٹی سی کو ایسی حکمت عملی اپنانی چاہیے جو جدت اور صارف کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کر سکے، نہ کہ ایسی تجاویز پیش کرنی چاہئیں جو حقیقت پسندی سے عاری ہوں۔
اس معاملے پر ہونے والی بحث کے دوران کئی دیگر سول سوسائٹی کے گروہوں نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مجوزہ پالیسی اسی شکل میں نافذ کر دی گئی تو یہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے غیر ضروری قانونی پیچیدگیاں پیدا کرے گی جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے سٹارٹ اپس سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ ایف ٹی سی کی جانب سے اب تک اس پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا گیا ہے، تاہم عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے ضوابط پر جاری بحث میں یہ ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
مستقبل کے تناظر میں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ایف ٹی سی اپنے اس موقف پر قائم رہتی ہے یا پھر عوامی اور تنظیمی دباؤ کے پیش نظر اس پالیسی میں ترامیم کرتی ہے۔ ٹیکنالوجی ماہرین کا متفقہ خیال یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت جیسے تیزی سے بدلتے ہوئے شعبے میں ضابطہ سازی کا عمل انتہائی محتاط ہونا چاہیے تاکہ نہ صرف انسانی حقوق محفوظ رہیں بلکہ تکنیکی جدت طرازی کا عمل بھی بلا تعطل جاری رہ سکے۔