LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی ٹیکنالوجی اور کارپوریٹ حکمت عملی: لولیمون کے سابق عہدیدار کا انکشاف

News Image
لولیمون کے سابق سی آئی او نے کمپنیوں کو مصنوعی ذہانت کے حوالے سے حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ صرف اے آئی کے نام پر ٹیکنالوجی اپنانا کافی نہیں بلکہ اس کے لیے گہری حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
لولیمون (Lululemon) جیسی عالمی سطح پر مشہور ایتھلیٹک ملبوسات کی کمپنی کے سابق چیف انفارمیشن آفیسر نے مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالے سے کارپوریٹ دنیا کے بدلتے ہوئے رویوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں واضح کیا ہے کہ کمپنیاں اکثر اے آئی کو ایک جادوئی حل سمجھ کر اسے اپنانے کی جلدی کر رہی ہیں، جبکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف مصنوعی ذہانت کا لیبل لگا دینے یا اسے مارکیٹنگ کے لیے استعمال کرنے سے طویل مدتی فوائد حاصل نہیں ہو سکتے۔ اپنے آٹھ سالہ تجربے کا ذکر کرتے ہوئے سابق سی آئی او نے بتایا کہ جب وہ کمپنی چھوڑ رہے تھے، تو ان کے جانشین کو ایک نیا عہدہ 'چیف اے آئی اینڈ ٹیکنالوجی آفیسر' دیا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ کمپنیاں اب اے آئی کو ٹیکنالوجی کے مرکز میں لانا چاہتی ہیں۔ تاہم، ان کا مؤقف یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو محض ایک فیشن یا ٹرینڈ کے طور پر نہیں بلکہ بزنس آپریشنز کے ایک بنیادی جزو کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اگر کمپنیاں بغیر کسی مربوط حکمت عملی کے صرف اے آئی پر انحصار کریں گی، تو وہ جلد ہی تکنیکی مسائل اور وسائل کے ضیاع کا شکار ہو سکتی ہیں۔ مضمون نگار کے مطابق، اکثر کاروباری ادارے مصنوعی ذہانت کے حقیقی چیلنجز کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جن میں ڈیٹا کی درستگی، اخلاقیات اور عملے کی تربیت جیسے اہم امور شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آئی کو صرف خرچ بڑھانے والا ٹول نہیں بلکہ کارکردگی بڑھانے والا ہتھیار بنانا چاہیے۔ کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی بنیادی کاروباری ضروریات کو سمجھیں اور دیکھیں کہ آیا وہاں اے آئی کی واقعی ضرورت ہے یا صرف روایتی ٹیکنالوجی ہی بہتر نتائج دے سکتی ہے۔ آخر میں انہوں نے کارپوریٹ لیڈرشپ کو نصیحت کی ہے کہ وہ اے آئی کے حوالے سے حقیقت پسندانہ رویہ اپنائیں۔ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شامل ہونا اچھی بات ہے، لیکن صرف دکھاوے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال طویل مدتی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ایک کامیاب کاروباری ماڈل وہی ہے جہاں ٹیکنالوجی انسانی مہارت اور درست کاروباری اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر کام کرے۔