LIVE
Loading Breaking News...

ایکس اے آئی اور منیسوٹا قانون: عدالت نے ایلون مسک کی قانونی حکمت عملی پر سوال اٹھا دیے

News Image
ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی نے منیسوٹا کے اینٹی نیوڈیفائی ایپ قانون کو چیلنج کیا ہے تاہم عدالت نے درخواست دائر کرنے میں تین ماہ کی غیر ضروری تاخیر پر سوال اٹھائے ہیں۔ عدالت کا موقف ہے کہ اگر یہ قانون اتنا ہی ہنگامی نوعیت کا تھا تو کمپنی نے بروقت کارروائی کیوں نہیں کی۔
حال ہی میں ایلون مسک کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کمپنی 'ایکس اے آئی' (xAI) کی جانب سے امریکی ریاست منیسوٹا کے ایک نئے قانون کو چیلنج کرنے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ہے۔ یہ قانون خاص طور پر 'نیوڈیفائی' (Nudify) ایپس کی روک تھام کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، جو اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کسی بھی تصویر کو غیر اخلاقی شکل دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایکس اے آئی کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست میں قانون کے نفاذ کو روکنے کی استدعا کی گئی تھی، تاہم عدالتی کارروائی کے دوران ایک انتہائی اہم نکتے پر بحث چھڑ گئی۔ عدالتی سماعت کے دوران جج نے ایکس اے آئی کے وکلاء سے انتہائی تلخ سوالات کیے، جن میں سب سے اہم سوال یہ تھا کہ اگر یہ قانون اتنا ہی ہنگامی اور کمپنی کے مفادات کے خلاف تھا تو اسے چیلنج کرنے کے لیے تین ماہ کا طویل انتظار کیوں کیا گیا؟ قانون کی نظر میں اگر کوئی معاملہ واقعی فوری نوعیت کا ہو تو متعلقہ فریقین کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر عدالتی چارہ جوئی کا آغاز کریں۔ تین ماہ کی تاخیر یہ ظاہر کرتی ہے کہ کمپنی نے اس قانون کے اثرات کو جانچنے کے بعد اپنی حکمت عملی ترتیب دی، جس پر عدالت نے گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس قانونی جنگ کے پیچھے کی حقیقت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی کے ضوابط سے نمٹنے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔ منیسوٹا کا یہ قانون اے آئی پلیٹ فارمز پر سخت پابندیاں عائد کرتا ہے، خاص طور پر ایسی ایپس پر جو ڈیپ فیک یا غیر اخلاقی مواد کی تخلیق میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایکس اے آئی کا یہ اقدام نہ صرف اپنے کاروباری مفادات کے تحفظ کی ایک کوشش ہے بلکہ یہ اے آئی کے ضوابط کے خلاف ایک بڑی قانونی لڑائی کی ابتدا بھی ہے۔ مستقبل میں اس کیس کا فیصلہ اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے امریکی ریاستوں کے قوانین پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر عدالت نے ایکس اے آئی کے مؤقف کو مسترد کر دیا تو دیگر کمپنیوں کے لیے بھی ریاستی قوانین کی پابندی کرنا لازمی ہو جائے گا۔ فی الحال، عدالتی ریکارڈ میں درج یہ تاخیر ایلون مسک کی قانونی ٹیم کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آئی ہے، اور دیکھنا یہ ہے کہ عدالت اس تاخیر کے پیچھے موجود ٹھوس وجوہات کو تسلیم کرتی ہے یا نہیں۔