World
عالمی معیشت اور پیٹرو ڈالر پر ایران امریکہ بحران کے اثرات
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی مالیاتی نظام اور خاص طور پر پیٹرو ڈالر کی بالادستی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے فوجی کارروائی منسوخ کیے جانے کے فیصلے نے عالمی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے مابین جاری تناؤ نہ صرف خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے بلکہ اس نے عالمی مالیاتی نظام کی بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو عین وقت پر منسوخ کرنے کا فیصلہ دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا گیا ہے۔ اس اقدام کے بعد ماہرینِ معاشیات اس بحث میں مصروف ہیں کہ آیا طویل عرصے سے قائم 'پیٹرو ڈالر' کا نظام اب ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکا ہے اور کیا مستقبل میں دنیا تیل کی تجارت کے لیے ڈالر کے بجائے دیگر متبادل کرنسیوں کی طرف مائل ہو جائے گی۔
ماہرین کے مطابق ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں اور خلیج میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے تیل کی رسد کے محفوظ راستوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ جب امریکہ نے ایران پر حملے کا عندیہ دیا تو عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ عالمی معیشت کا انحصار اب بھی پیٹرو ڈالر پر ہے، تاہم امریکہ کی جانب سے فوجی طاقت کے بے دریغ استعمال اور پابندیوں کے ہتھیار کو استعمال کرنے کے رویے سے کئی ممالک اپنے ذخائر کو متنوع بنانے پر غور کر رہے ہیں۔ چین اور روس جیسے ممالک پہلے ہی ڈالر کے متبادل نظام کی تلاش میں سرگرم ہیں تاکہ امریکی اقتصادی دباؤ سے خود کو محفوظ رکھ سکیں۔
صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑی ممکنہ کارروائی کو منسوخ کیا، ایک طرف تو عسکری تحمل کا مظہر ہے، مگر دوسری طرف اس سے یہ پیغام بھی گیا ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کے غیر متوقع فیصلوں کا اثر براہ راست عالمی تجارت پر پڑ رہا ہے۔ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو نہ صرف پیٹرو ڈالر کی قدر مستحکم نہیں رہے گی بلکہ تیل خریدنے والے ممالک کے لیے امریکی ڈالر کی دستیابی ایک مشکل مرحلہ بن جائے گی۔ اس تناظر میں کئی تجزیہ کاروں کا یہ ماننا ہے کہ پیٹرو ڈالر کا تسلط اب ایک خطرے میں پڑ چکا ہے کیونکہ عالمی معیشت میں اب ڈالر کے علاوہ دیگر طاقتوں کا اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے۔
آخر کار، اس صورتحال کا نتیجہ کیا نکلے گا، یہ آنے والے وقت میں واضح ہوگا۔ تاہم، یہ بات یقینی ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین جاری یہ چپقلش محض ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ عالمی مالیاتی نظام کے مستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ دنیا اب ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں تیل کی تجارت اور اس کے لیے استعمال ہونے والی کرنسی کے حوالے سے نئے معاہدے اور نئی صف بندیاں دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔ عالمی سرمایہ کار اور ممالک اب اپنی معاشی حکمتِ عملیوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں تاکہ پیٹرو ڈالر پر انحصار کو کم کیا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ بڑے معاشی بحران سے نمٹا جا سکے۔