Pakistan
پاکستان میں مون سون بارشیں: جنرل ساحر شمشاد مرزا کا ہنگامی انتظامات کا جائزہ
پاکستان میں مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے متعلقہ اداروں کے مابین رابطوں کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔ ملک بھر میں بارشوں سے ہلاکتوں کی تعداد 136 تک پہنچ گئی ہے جبکہ شہری انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
پاکستان میں جاری مون سون کی تباہ کاریاں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے پیش نظر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے ملک بھر میں ہنگامی تیاریوں اور تمام متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کے مابین بہتر ہم آہنگی پر زور دیا ہے۔ حالیہ بارشوں کے دوران انفراسٹرکچر کی خستہ حالی اور شہری علاقوں میں سیلابی ریلوں نے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس کے بعد عسکری قیادت نے صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے ریسکیو اور ریلیف کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ حکومتی سطح پر بھی 'مون سون اکنامک ڈیمیج ڈیش بورڈ' کے قیام کے مطالبات کیے جا رہے ہیں تاکہ تباہ کاریوں کا درست تخمینہ لگایا جا سکے اور متاثرین کی فوری بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ملک بھر سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مون سون کی حالیہ لہر میں جاں بحق ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 136 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ مزید 10 افراد حالیہ بارشوں سے جڑے واقعات میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں شہری سیلاب نے معمولات زندگی کو مکمل طور پر درہم برہم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی، پانی اور مواصلات کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری منصوبہ بندی کے فقدان اور نکاسی آب کے ناقص نظام نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس سے نہ صرف قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں بلکہ معاشی طور پر بھی ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔
اس سنگین صورتحال میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) اور دیگر امدادی ادارے متحرک ہیں تاہم وسائل کی کمی اور بروقت انتباہی نظام کے فقدان نے امدادی سرگرمیوں کو محدود کر رکھا ہے۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے تاکید کی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پہلے سے طے شدہ لائحہ عمل کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے تاکہ نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ وزیر اعظم اور متعلقہ وزراء کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فیلڈ میں موجود ٹیموں کی کڑی نگرانی کریں تاکہ متاثرہ علاقوں میں بروقت طبی امداد، خوراک اور خیموں کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے، کیونکہ آنے والے دنوں میں بارشوں کا مزید سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے جس سے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔