LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کی ایران سے مذاکرات کی پیشکش اور ایران عمان تجارتی معاہدہ

News Image
نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ نئے مذاکرات شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے جس سے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔ دوسری جانب تہران نے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں شپنگ اور تجارتی تعاون کے ایک اہم معاہدے کا اعلان کیا ہے۔
نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیانات میں ایران کے ساتھ نئے سرے سے مذاکرات شروع کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال اور عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے حوالے سے اپنی پرانی پالیسیوں میں تبدیلی لا سکتی ہے تاکہ خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو برقرار رکھتے ہوئے سفارتی راستے تلاش کیے جا سکیں۔ اگرچہ ابھی تک ان مذاکرات کی تفصیلات اور شرائط واضح نہیں ہیں، تاہم اس پیشکش نے عالمی برادری میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ دوسری جانب، ایران نے امریکہ کی اس پیشکش پر محتاط ردعمل دیا ہے، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام کا خیرمقدم کرے گا جو ایران کے مفادات کے تحفظ میں معاون ہو۔ تہران کی جانب سے ایک اور اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ اس نے عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں شپنگ اور تجارتی تعاون کے حوالے سے ایک نئے معاہدے کی تصدیق کی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، اور ایران کا عمان کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون خطے میں سیکیورٹی اور تجارت کے نئے توازن کو ظاہر کرتا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد خطے میں شپنگ کی سرگرمیوں کو مزید محفوظ بنانا اور دوطرفہ تجارت کو فروغ دینا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کا عمان کے ساتھ یہ معاہدہ نہ صرف سفارتی کامیابی ہے بلکہ یہ آبنائے ہرمز میں ایرانی موجودگی کو قانونی اور اقتصادی جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ اس پیش رفت نے خطے کے دیگر ممالک میں بھی تشویش اور تجسس کو جنم دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ٹرمپ کی مذاکرات کی پیشکش اور ایران کے عمان کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کے درمیان کوئی تعلق قائم ہو سکتا ہے یا نہیں، اور کیا یہ اقدامات مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کی بنیاد بن سکتے ہیں۔