Health
کینسر کے علاج کے نام پر فراڈ: خارش کی ادویات کا استعمال
ایک حالیہ تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ کینسر کے مریضوں کو پیٹ کے کیڑوں اور خارش کی ادویات کینسر کے علاج کے نام پر مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہیں۔ ماہرین نے عوام کو متنبہ کیا ہے کہ ان غیر مستند علاج کے سنگین طبی نتائج ہو سکتے ہیں۔
بی بی سی کی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ نے طبی دنیا میں ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کینسر جیسے مہلک مرض میں مبتلا مریضوں کو پیٹ کے کیڑوں (dewormer) اور خارش (scabies) کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کینسر کا علاج بتا کر فروخت کی جا رہی ہیں۔ یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں کینسر کے مریض زندگی بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہوتے ہیں اور ایسے میں دھوکہ دہی کرنے والے عناصر ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ایک ٹرمینل بیماری میں مبتلا شخص کو ایک سٹیر لفٹ سیلز مین نے یہ ادویات فروخت کیں اور دعویٰ کیا کہ یہ ادویات ٹیومر کو سکیڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
طبی ماہرین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹ کے کیڑوں اور خارش کے لیے استعمال ہونے والی یہ مخصوص ادویات کینسر کے علاج کے لیے نہ تو منظور شدہ ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی سائنسی ثبوت موجود ہے کہ یہ رسولیوں کو ختم کر سکتی ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کینسر جیسے پیچیدہ مرض کا علاج صرف مستند آنکولوجسٹ اور منظور شدہ کیموتھراپی یا دیگر سائنسی طریقہ کار کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ مریضوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر مستند فرد کے مشورے پر ایسی ادویات کا استعمال ہرگز نہ کریں کیونکہ ان کے سائیڈ ایفیکٹس جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا اور غیر رسمی نیٹ ورکس کے ذریعے ان ادویات کی تشہیر کی جا رہی ہے۔ سیلز مین جیسے افراد، جن کا طبی شعبے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، وہ اپنی ذاتی مفادات کے لیے مریضوں کی امیدوں کا سودا کر رہے ہیں۔ ہیلتھ ریگولیٹرز اب اس معاملے کی مزید گہرائی سے چھان بین کر رہے ہیں تاکہ ان نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا جا سکے جو کینسر کے مریضوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے بھی عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک دوا کے استعمال سے پہلے اپنے متعلقہ ڈاکٹر سے لازمی مشورہ کریں۔
اس واقعے نے طبی اخلاقیات اور ادویات کی فروخت کے ضوابط پر بھی سوالیہ نشان اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کا مطالبہ ہے کہ اس طرح کی دھوکہ دہی میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی اور مریض کو ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ کسی بھی ایسے شخص پر آنکھ بند کر کے اعتماد نہ کریں جو کسی بیماری کے مکمل خاتمے کا دعویٰ کرتا ہو اور اس کے پاس کوئی مستند طبی ڈگری یا سرکاری اجازت نامہ نہ ہو۔ کینسر جیسے سنگین مرض کے لیے ہمیشہ مستند طبی مراکز اور ہسپتالوں سے ہی رجوع کرنا انسانی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔