Technology
وائٹ ہاؤس کا مصنوعی ذہانت کے لیے نیا حفاظتی فریم ورک
وائٹ ہاؤس کے سائبر سیکیورٹی حکام نے مصنوعی ذہانت کے نئے ماڈلز کی جانچ کے لیے ایک رضاکارانہ فریم ورک تیار کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مارکیٹ میں نئی ٹیکنالوجی متعارف کروانے سے قبل اس کے ممکنہ خطرات کا سدباب کرنا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اطلاعات کے مطابق امریکی حکومت کے سائبر سیکیورٹی سربراہان نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے ایک نئے حفاظتی فریم ورک کا مسودہ مکمل کر لیا ہے۔ اس فریم ورک کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو مزید محفوظ بنانا اور اس کے ممکنہ خطرات کو عوامی سطح پر پہنچنے سے پہلے ہی کم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ٹیکنالوجی کمپنیاں رضاکارانہ طور پر اپنے جدید ترین 'فرنٹیئر ماڈلز' کو سرکاری سطح پر جانچ کے لیے پیش کریں گی تاکہ ان کی فعالیت اور سیکیورٹی کا جائزہ لیا جا سکے۔
اس حکومتی اقدام کو ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ موجودہ دور میں جس تیزی سے اے آئی ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، اس نے عالمی سطح پر سیکیورٹی ماہرین کے لیے تشویش پیدا کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی یہ کوشش ہے کہ نجی کمپنیوں اور حکومت کے درمیان ایک ایسا تعاون قائم کیا جائے جس سے ان جدید ماڈلز کے ڈیزائن اور اخلاقی پہلوؤں کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس رضاکارانہ نظام کے ذریعے کمپنیاں اپنے ماڈلز کو مارکیٹ میں لانچ کرنے سے قبل انہیں سرکاری ماہرین کی کڑی جانچ کے عمل سے گزاریں گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ فریم ورک خاص طور پر ان بڑے لینگویج ماڈلز اور خودکار سسٹمز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جن میں بڑے پیمانے پر ڈیٹا کا استعمال ہوتا ہے اور جن کے غلط استعمال سے عوامی سطح پر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ عمل فی الحال رضاکارانہ نوعیت کا ہے، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں اس طرح کے ضوابط کو قانونی حیثیت دی جا سکتی ہے تاکہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے استعمال کے معیارات کو ایک جیسا رکھا جا سکے۔
اس فیصلے پر ٹیک انڈسٹری کے بڑے ناموں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ جہاں کچھ کمپنیاں حفاظتی اقدامات کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے پر آمادہ ہیں، وہیں کچھ کا کہنا ہے کہ سخت جانچ پڑتال سے جدت طرازی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم، وائٹ ہاؤس نے واضح کیا ہے کہ عوامی تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے اور اس قسم کی شراکت داری وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے مثبت اثرات کو یقینی بنایا جا سکے اور انسانیت کے لیے اس کے خطرات کو محدود کیا جا سکے۔