LIVE
Loading Breaking News...

اے 16 زی کی جانب سے اے آئی کے ذریعے انٹرنیٹ پر غلط معلومات پھیلانے کا انکشاف

News Image
نامور وینچر کیپیٹل فرم اے 16 زی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز کے ذریعے تکنیکی تاریخ کو مسخ کرنے کے عمل کو فروغ دے رہی ہے۔ اس اقدام پر ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس سے غلط معلومات کا سیلاب آ سکتا ہے۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر نوے کی دہائی کے بچوں کی ایک ایسی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ کمپیوٹر اور مستقبل کی ٹیکنالوجی کے بارے میں پیشین گوئیاں کر رہے تھے۔ دیکھنے والوں کو یہ ویڈیو ایک تاریخی دستاویز محسوس ہوئی، لیکن حقیقت میں یہ سب کچھ مکمل طور پر جعلی اور مصنوعی ذہانت کی پیداوار تھا۔ اس ویڈیو کو 'فلکس 3' (Flux 3) نامی اے آئی ماڈل کا استعمال کرتے ہوئے تخلیق کیا گیا تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس طرح کی ویڈیوز بنانے اور انہیں انٹرنیٹ پر پھیلانے کا سہرا نامور وینچر کیپیٹل فرم 'اے 16 زی' (A16z) کے سر ہے، جس نے بظاہر فخر کے ساتھ اس ٹیکنالوجی کی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس قسم کی تکنیک کا استعمال نہ صرف خطرناک ہے بلکہ یہ انٹرنیٹ پر موجود تاریخی حقائق کو بھی بری طرح مسخ کر سکتا ہے۔ جب مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ ویڈیوز اتنی حقیقت پسندانہ ہوں کہ انہیں اصلی اور نقلی میں فرق کرنا مشکل ہو جائے، تو یہ ڈیجیٹل دنیا میں 'غلط معلومات' کے ایک نئے طوفان کو جنم دیتی ہے۔ اے 16 زی کی اس مہم کا مقصد اگرچہ اپنی اے آئی ٹیکنالوجی کی طاقت کو دکھانا ہے، لیکن اس کے نتائج طویل مدت میں معاشرتی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے والے ثابت ہو سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر اب ایسی جعلی ویڈیوز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو ماضی کے واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اے آئی کے اس دور میں جہاں ایجادات انسانی زندگی کو آسان بنا رہی ہیں، وہیں ان کا غیر ذمہ دارانہ استعمال انسانی تاریخ اور حقائق کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے۔ اگر ایسی ویڈیوز کو روکنے کے لیے ضابطہ اخلاق وضع نہ کیا گیا، تو عام صارفین کے لیے یہ جاننا ناممکن ہو جائے گا کہ انٹرنیٹ پر جو کچھ وہ دیکھ رہے ہیں، وہ حقیقت پر مبنی ہے یا محض ایک کوڈنگ کا کمال۔ اے 16 زی کی جانب سے اس طرح کی سرگرمیوں کو فروغ دینا ایک ایسے غیر صحت مند رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جو ٹیکنالوجی کے اخلاقی پہلوؤں کو پس پشت ڈال رہا ہے۔ آخر میں، یہ سوال بدستور قائم ہے کہ کیا اے آئی ماڈلز کو اس طرح کے 'تخلیقی' مگر گمراہ کن مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہونی چاہیے؟ اگرچہ کمپنی اپنے اے آئی ماڈلز کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا چاہتی ہے، لیکن تاریخ کو مسخ کر کے یا جعلی ٹیکنالوجی کی تاریخ تخلیق کر کے عوام کو گمراہ کرنا کسی بھی طور پر پیشہ ورانہ اخلاقیات کے زمرے میں نہیں آتا۔ انٹرنیٹ کے صارفین کو اب پہلے سے کہیں زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ڈیجیٹل دور کے اس پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔