World
اسرائیلی نیویگیشن سسٹم کے بغیر حکومتی طیارہ، پروازوں میں مشکلات کا خدشہ
نئے سرکاری طیارے کو اسرائیل ساختہ نیویگیشن سسٹم کے بغیر منگوایا گیا ہے جس کے باعث خراب موسم اور دھند میں لینڈنگ مشکل ہو سکتی ہے۔ حکومتی فیصلہ سکیورٹی خدشات اور سیاسی حساسیت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
حال ہی میں موصول ہونے والا نیا حکومتی طیارہ ایک سنگین تکنیکی مسئلے سے دوچار ہو سکتا ہے جس کی وجہ اس میں ایک اہم نیویگیشن سسٹم کی عدم موجودگی ہے۔ ذرائع کے مطابق، حکومتی احکامات پر اس طیارے میں اسرائیل کی ایک کمپنی کی جانب سے تیار کردہ جدید نیویگیشن اور لینڈنگ سسٹم شامل نہیں کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سسٹم کے بغیر طیارے کے لیے خراب موسم، شدید دھند اور کم مرئیت (Visibility) کے دوران ایئرپورٹ پر بحفاظت لینڈنگ کرنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ یہ صورتحال حکومتی دوروں کی منصوبہ بندی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔
اس معاملے پر ایوی ایشن کے حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے کہ سیاسی اور سفارتی وجوہات کی بنا پر کیے گئے اس فیصلے کے تکنیکی اثرات کیا ہوں گے۔ عام طور پر جدید طیارے ایسے سسٹمز سے لیس ہوتے ہیں جو ریڈار اور سیٹلائٹ کی مدد سے پائلٹ کو انتہائی مشکل حالات میں بھی درست سمت فراہم کرتے ہیں۔ اسرائیلی ساختہ یہ نیویگیشن سسٹم دنیا بھر کے درجنوں ممالک اپنے طیاروں میں استعمال کر رہے ہیں، تاہم موجودہ حکومتی ترجیحات اور پالیسیوں کے پیش نظر اس سسٹم کو شامل کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔
اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آیا متبادل سسٹم نصب کرنے کے لیے طیارے کو دوبارہ ورکشاپ میں بھیجا جائے گا یا حکومت محدود صلاحیت کے حامل اس طیارے کے ساتھ ہی کام چلائے گی۔ اگر طیارے کو انہی حالات میں استعمال کیا گیا تو پائلٹس کو سخت موسمی حالات میں متبادل ہوائی اڈوں کا رخ کرنا پڑے گا، جس سے نہ صرف وقت کا ضیاع ہوگا بلکہ اخراجات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے فی الحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم تکنیکی ماہرین اسے طیارے کی کارکردگی کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دے رہے ہیں۔
مستقبل میں حکومتی سطح پر اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا جا سکتا ہے، جس میں کسی دوسری کمپنی کا سسٹم نصب کرنا یا موجودہ سسٹمز میں سافٹ ویئر کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔ تاہم، اس نوعیت کی تبدیلیاں کافی مہنگی اور وقت طلب ہوتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ حکومت اس تکنیکی چیلنج کا سامنا کیسے کرتی ہے اور کیا یہ طیارہ اپنے اہم ترین دوروں کے لیے مکمل طور پر محفوظ تصور کیا جائے گا یا نہیں۔