LIVE
Loading Breaking News...

ہوٹل کے کمرے میں اجنبی شخص کی موجودگی، سکیورٹی پر سوالات

News Image
اسکاٹ لینڈ کے شہر ڈنڈی میں واقع ایک نجی ہوٹل میں ایک جوڑے نے صبح بیدار ہو کر دیکھا کہ کمرے میں ایک نامعلوم شخص موجود ہے۔ واقعہ کے بعد سے متاثرہ جوڑا شدید ذہنی صدمے اور خوف کا شکار ہے۔
اسکاٹ لینڈ کے شہر ڈنڈی میں ایک نجی ہوٹل 'تراویلاج' میں پیش آنے والے ایک عجیب اور خوفناک واقعے نے مہمانوں کی سکیورٹی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، ایک جوڑا جو اس ہوٹل میں قیام پذیر تھا، صبح سویرے اس وقت شدید خوفزدہ رہ گیا جب انہوں نے اپنے کمرے میں ایک انجان شخص کو موجود پایا۔ متاثرہ خاتون کم ہچیسن نے اپنے بیان میں کہا کہ جب وہ بیدار ہوئیں تو انہوں نے دیکھا کہ ایک مرد صرف شارٹس پہنے ان کے بیڈ کے سرہانے کھڑا تھا۔ اس اچانک صورتحال نے انہیں ذہنی طور پر بری طرح متاثر کیا اور وہ سخت خوف و ہراس کا شکار ہو گئیں۔ واقعے کی تفصیلات کے مطابق جوڑا رات کو پرسکون ماحول میں سو رہا تھا، لیکن صبح جب آنکھ کھلی تو کمرے کے اندر غیر متوقع طور پر ایک اجنبی کو دیکھ کر ان کے ہوش اڑ گئے۔ خاتون نے بتایا کہ یہ صورتحال انتہائی تکلیف دہ تھی کیونکہ کوئی بھی شخص اپنے نجی کمرے میں اس طرح کی مداخلت کی توقع نہیں کرتا۔ ہوٹل کے کمرے کا دروازہ کس طرح کھلا یا وہ شخص وہاں کیسے پہنچا، یہ اب بھی ایک معمہ بنا ہوا ہے اور اس سے ہوٹل انتظامیہ کے سکیورٹی انتظامات پر سوال اٹھتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد ہوٹل کی انتظامیہ کی جانب سے بھی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ متاثرہ جوڑے نے ہوٹل کی سکیورٹی میں پائی جانے والی کوتاہیوں پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ مقامی حکام اس معاملے کی چھان بین کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس شخص کے پاس کمرے کی چابی کیسے پہنچی یا وہ کس طرح بغیر اجازت کمرے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا۔ اس طرح کے واقعات نجی ہوٹلوں میں قیام کرنے والے سیاحوں اور مہمانوں کے تحفظ کے حوالے سے تشویش پیدا کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہوٹل انتظامیہ کو اپنے سکیورٹی پروٹوکولز، بشمول سی سی ٹی وی مانیٹرنگ اور الیکٹرانک لاک سسٹم کی جانچ پڑتال کرنی چاہیے تاکہ آئندہ کسی بھی مہمان کو ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ فی الحال، متاثرہ جوڑا اس واقعہ کے بعد شدید ذہنی صدمے سے گزر رہا ہے اور پولیس اس معاملے میں مزید تحقیقات میں مصروف ہے۔