World
سنگل افراد کے لیے بڑھتے ہوئے اخراجات اور بچت کے طریقے
دنیا بھر میں اکیلے زندگی گزارنے والے افراد کو رہائش، بلوں اور خوراک کی مد میں اضافی مالی بوجھ کا سامنا ہے۔ اس مہنگائی سے نمٹنے کے لیے اب دوستوں اور افراد نے مل کر اخراجات تقسیم کرنے کے نئے طریقے تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں۔
موجودہ دور میں اکیلے زندگی گزارنا یعنی سنگل رہنا محض سماجی طور پر ہی نہیں بلکہ مالی طور پر بھی ایک مہنگا سودا بن چکا ہے۔ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں سنگل افراد کو روزمرہ کی زندگی میں کئی طرح کے اضافی مالی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل میں رہائش کے اخراجات، یوٹیلیٹی بلز، گروسری اور چھٹیوں کے دوران ہوٹلوں یا سفر کے ٹکٹس کی قیمتیں شامل ہیں جو جوڑوں یا مشترکہ خاندانوں کے مقابلے میں اکیلے رہنے والے شخص کو اکیلے ہی برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، اکیلے گھر کا کرایہ ادا کرنا اور اکیلے تمام گھریلو اخراجات اٹھانا کسی بھی عام فرد کے ماہانہ بجٹ پر بوجھ بن جاتا ہے۔
اس بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے اب لوگوں نے نئے اور عملی طریقے تلاش کرنا شروع کر دیے ہیں۔ بہت سے دوستوں اور ہم خیال افراد نے باہمی تعاون کی ایک نئی لہر کا آغاز کیا ہے جس کے تحت وہ اکیلے رہنے کے بجائے مشترکہ طور پر گھر کرائے پر لے رہے ہیں یا فلیٹس کا اشتراک کر رہے ہیں۔ اس طرح نہ صرف کرائے کی رقم میں بڑی بچت ہوتی ہے بلکہ بجلی، گیس اور انٹرنیٹ جیسے بل بھی کئی حصوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں جس سے ہر فرد کی انفرادی مالی مشکلات میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔
صرف رہائش تک ہی محدود نہیں، بلکہ کھانے پینے کے سامان کی خریداری یعنی گروسری میں بھی دوست اب مل کر خریداری کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ تھوک یا بلک میں خریداری کرنے سے اشیاء نسبتاً سستی ملتی ہیں اور خوراک کے ضیاع سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ چھٹیوں کے دنوں میں سیر و تفریح کے دوران بھی اخراجات کو مشترکہ طور پر شیئر کیا جا رہا ہے تاکہ کوئی ایک شخص مالی دباؤ کا شکار نہ ہو۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل نہ صرف مالیاتی نقطہ نظر سے انتہائی سودمند ہے بلکہ یہ سماجی میل جول اور باہمی تعاون کو بھی فروغ دیتا ہے۔