Health
گرمیوں کے سینڈل اور پیروں کی صحت: کیا یہ نقصان دہ ہیں؟
گرمیوں میں پیروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پہنے جانے والے سستے اور فیشن ایبل سینڈل صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ بعض جوتوں کے ڈیزائن پیروں کی ہڈیوں اور پٹھوں پر شدید دباؤ ڈالتے ہیں۔
جیسے ہی گرمیوں کا موسم شروع ہوتا ہے، لوگ اپنے بھاری جوتے اور بند جوتے الماری میں رکھ کر ہلکے پھلکے سینڈل اور چپلیں نکال لیتے ہیں۔ بظاہر یہ سینڈل پیروں کو گرمی اور پسینے سے بچاتے ہیں اور ہوا کی آمدورفت کو یقینی بناتے ہیں، لیکن ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ فیشن کے نام پر استعمال ہونے والے کچھ سینڈل پیروں کے لیے شدید نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ بہت زیادہ فلیٹ یا پتلے تلوے والے سینڈلز میں پیروں کے لیے کوئی سپورٹ موجود نہیں ہوتی، جس سے پٹھوں اور ہڈیوں پر برا اثر پڑتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، جب آپ ایسے سینڈل پہن کر چلتے ہیں جن کی ساخت ناقص ہو، تو جسم کا پورا وزن غیر متوازن ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے پیروں کے نچلے حصے، ٹخنوں اور یہاں تک کہ کمر کے نچلے حصے میں بھی درد کی شکایت پیدا ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ سینڈل جو پیر کے انگوठे اور انگلیوں کے درمیان فیتے یا ربڑ کے सहारे ٹکے ہوتے ہیں، چلتے وقت انگلیوں کو غیر فطری انداز میں جکڑے رکھتے ہیں جس سے پٹھے کھنچ جاتے ہیں۔
اس مسئلے سے بچنے کے لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ گرمیوں میں بھی ایسے جوتے یا سینڈل منتخب کیے جائیں جو آرچ سپورٹ (arch support) فراہم کریں اور جن کے تلوے نرم اور مضبوط ہوں۔ طویل سفر یا زیادہ پیدل چلنے کے دوران بالکل فلیٹ چپلوں کا استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ پیروں کی طویل مدتی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے فیشن کے ساتھ ساتھ جوتے کے معیار اور آرام کو بھی ترجیح دینا انتہائی ضروری ہے۔