World
کولمبیا میں خواتین کے ختنہ کے خلاف قانون سازی
کولمبیا میں ایک مقامی قبیلے کی طرف سے لڑکیوں کے ختنہ کی جاری گھناؤنی روایت کے خلاف ایک تاریخی قانون نافذ کر دیا گیا ہے۔ یہ قانون اس وقت سامنے آیا جب ایک ماں نے انکشاف کیا کہ اس کی ساس نے اس کی غیر موجودگی میں بچی کے ساتھ یہ عمل کیا۔
کولمبیا میں خواتین کے ختنہ کی غیر انسانی اور تکلیف دہ روایت کے خلاف ایک انتہائی اہم اور تاریخی بل باضابطہ طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔ یہ قانون ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے ایک مقامی قبیلے کی جانب سے اس قبیح فعل کے جاری رہنے کے ہوشربا انکشافات سامنے آئے تھے۔ ایک ماں نے دل دہلا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اس کی ساس نے اس کی عدم موجودگی میں اس کے شیرخوار بچے کے ساتھ اس روایت کو دہرایا، جس کے بعد اس معاملے نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر سنگین نوعیت اختیار کر لی تھی۔
واضح رہے کہ کولمبیا کے کچھ مخصوص دیسی قبائل میں یہ خطرناک رسم طویل عرصے سے چلی آ رہی ہے، جس کے تحت بچیوں کو شدید جسمانی اور نفسیاتی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور مقامی سماجی کارکنان کی طویل جدوجہد کے بعد بالآخر حکومت نے اس روایت کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے سخت ترین قانون سازی کی ہے۔ اس بل کے تحت اس فعل میں ملوث افراد کے خلاف اب سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ معصوم بچیوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
حکومتی عہدیداروں اور قانون سازوں کا کہنا ہے کہ جدید دنیا میں اس طرح کے فرسودہ اور نقصان دہ رسم و رواج کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ نئے قانون کے نفاذ کے ساتھ ہی ملک بھر میں اس حوالے سے آگاہی مہمات کا آغاز بھی کیا جا رہا ہے تاکہ قبائلی علاقوں میں لوگوں کو اس کے طبی نقصانات سے آگاہ کیا جا سکے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی نہ برتیں اور اس ظالمانہ روایت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔