LIVE
Loading Breaking News...

کینیا میں ہاتھیوں کی پراسرار ہلاکتیں، حقیقت کیا ہے؟

News Image
کینیا میں ہاتھیوں کی غیر معمولی اور پراسرار اموات کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ مبینہ طور پر زرعی کیڑے مار ادویات کو قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین نے ان دعووں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
کینیا کے مختلف علاقوں میں ہاتھیوں کی اچانک اور پراسرار اموات نے مقامی حکام اور عالمی وائلڈ لائف ماہرین کو گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات اور قیاس آرائیوں میں یہ کہا جا رہا ہے کہ ان ہلاکتوں کی بنیادی وجہ زرعی فصلوں پر استعمال ہونے والی مہلک کیڑے مار ادویات ہو سکتی ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ہاتھیوں نے ایسی فصلیں کھائی ہیں جن پر زہریلے کیمیکلز کا اسپرے کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ مہلک اثرات کا شکار ہوئے۔ یہ معاملہ ملک کے حیاتیاتی تنوع اور سیاحت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو رہا ہے کیونکہ ہاتھی کینیا کی سیاحت کا مرکز ہیں۔ تاہم، صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر ماہرین کی رائے تقسیم کا شکار ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق، کئی تجربہ کار وائلڈ لائف ماہرین نے اس دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے کہ صرف کیڑے مار ادویات ہی ان ہلاکتوں کی واحد وجہ ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا استدلال ہے کہ ہاتھیوں کی اموات کے پیچھے ماحولیاتی تبدیلیاں، پانی کی قلت، یا خوراک کی کمی جیسے دیگر گہرے عوامل بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات کی مکمل سائنسی تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔ دوسری جانب، کینیا کی وائلڈ لائف سروس اس معاملے پر مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں کے پانی اور چارے کے نمونے لیبارٹری بھجوا رہے ہیں تاکہ زہریلے مادوں کی موجودگی کی تصدیق کی جا سکے۔ مقامی کسانوں اور تحفظِ جنگلی حیات کے کارکنوں کے درمیان کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے، کیونکہ اکثر اوقات جنگلی جانور انسانی آبادیوں کا رخ کر کے فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس کے بعد جوابی کارروائی میں زہریلے مادوں کے استعمال کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے حکومت کو پائیدار زرعی پالیسیاں بنانے اور انسانی و جنگلی حیات کے درمیان تصادم کو کم کرنے کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ عالمی برادری بھی ان قیمتی جانوروں کے تحفظ کے لیے کینیا کی کوششوں پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاکہ افریقہ کے اس عظیم اثاثے کو معدومی سے بچایا جا سکے۔