LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں جنگی منافع خوری اور شدید بارشوں کے چرچے

News Image
برطانوی اخبارات نے ایران اور خطے میں کشیدگی کے باعث تیل کمپنیوں کے غیر معمولی منافع کو موضوع بحث بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ برطانیہ بھر میں ہونے والی شدید بارشوں کو سپر رین کا نام دیتے ہوئے ان کے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
بدھ کے روز برطانوی پریس میں چھائی ہوئی شہ سرخیوں نے دو اہم معاملات پر دنیا بھر کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ پہلا معاملہ ایران اور خطے میں جاری حالیہ کشیدگی سے وابستہ ہے، جہاں برطانوی اخبارات نے اس بات پر کڑی تنقید کی ہے کہ کس طرح عالمی تیل کمپنیاں جنگی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اربوں ڈالر کا منافع کما رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پیدا ہوا ہے، جس کا براہِ راست فائدہ ان بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پہنچ رہا ہے جو دنیا بھر میں توانائی کے ذخائر کو کنٹرول کرتی ہیں۔ یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عام صارفین پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اخبارات نے ان کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی بحرانوں کے دوران منافع خوری کے بجائے عوامی مفاد کو مدنظر رکھیں۔ دوسری جانب برطانوی اخبارات کا ایک بڑا حصہ برطانیہ میں ہونے والی شدید موسمیاتی تبدیلیوں پر محیط ہے۔ ملک بھر میں ہونے والی بے تحاشا بارشوں کو ماہرینِ موسمیات کی اصطلاح میں 'سپر رین' قرار دیا جا رہا ہے، جس نے نظامِ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہے۔ حکام کی جانب سے عوام کو الرٹ جاری کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ اخبارات نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور انفراسٹرکچر کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے۔ یہ دونوں خبریں ایک ساتھ مل کر عالمی سطح پر معاشی اور ماحولیاتی عدم تحفظ کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایک طرف جنگی جنون اور اس سے جڑا معاشی مفاد ہے، تو دوسری طرف قدرت کا قہر جو انسانی سرگرمیوں کے مضر اثرات کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ برطانیہ کے عوام ان دونوں صورتحال پر گہری تشویش کا شکار ہیں اور حکومتی سطح پر فوری ردِ عمل کے منتظر ہیں۔ ان مسائل کا حل صرف ملکی نہیں بلکہ عالمی سطح پر مربوط کوششوں میں ہی مضمر ہے۔