LIVE
Loading Breaking News...

چینی اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ، سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری واپس

News Image
چین میں اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کاروں نے جولائی کے دوران اپنی لیوریج پوزیشنز میں 14 فیصد تک کی نمایاں کمی کر دی ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں ٹیکنالوجی کے حصص میں شدید مندی دیکھی گئی ہے جس نے حکومتی کوششوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
چین کے اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کاروں نے گزشتہ ماہ کے دوران اپنی لیوریج پوزیشنز (قرض پر لی گئی سرمایہ کاری) میں 14 فیصد تک کی بڑی کمی کر دی ہے۔ اس اقدام نے چینی مارکیٹ میں ٹیکنالوجی کے حصص کے ایک اہم انڈیکس میں بدترین گراوٹ کو ہوا دی ہے، جس کے اثرات وسیع پیمانے پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ صورتحال بیجنگ کی جانب سے حصص کی مارکیٹ کو مستحکم کرنے کی کوششوں کو کمزور کر رہی ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں میں بے یقینی کی لہر دیکھی گئی ہے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری یہ سیل آف اس قدر شدید ہے کہ اس نے گزشتہ برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے لیوریج پوزیشنز کو ختم کرنے کا عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ میں اعتماد کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب سرمایہ کار مارکیٹ سے اپنے قرض واپس نکالتے ہیں، تو اس سے نہ صرف انفرادی حصص کی قیمتیں گرتی ہیں بلکہ مجموعی طور پر انڈیکس پر منفی اثر پڑتا ہے، جو کہ چینی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ دوسری جانب، چینی حکام کی طرف سے مارکیٹ میں استحکام لانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے تھے، جن کا مقصد حصص کی گرتی ہوئی قیمتوں کو ایک نچلی سطح پر روکنا تھا۔ تاہم، سرمایہ کاروں کی حالیہ اقدام نے ان حکومتی کوششوں کی تاثیر پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ موجودہ حالات میں، ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کار اپنے پورٹ فولیوز کو مزید محفوظ بنانے کے لیے رسک لینے سے گریز کر رہے ہیں۔ مارکیٹ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں چین کی اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ جب تک سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال نہیں ہوتا اور لیوریج پوزیشنز کے انخلا کا عمل نہیں رکتا، تب تک ٹیکنالوجی کے شعبے میں بہتری کی توقع کرنا قبل از وقت ہوگا۔ چینی حکومت کے لیے اب اصل امتحان یہ ہے کہ وہ کس طرح مارکیٹ میں نئی لیکویڈیٹی فراہم کر کے اعتماد کو بحال کرتی ہے تاکہ طویل مدت میں معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔