Politics
امریکہ میں اینڈ ای پی اے ابیوز ایکٹ کی منظوری کی کوششیں
امریکہ میں 'اینڈ ای پی اے ابیوز ایکٹ' کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کے اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ قانون سازوں کا موقف ہے کہ اس اقدام سے معیشت پر بوجھ کم ہوگا اور حکومتی مداخلت میں کمی آئے گی۔
امریکہ میں ماحولیاتی تحفظ کے وفاقی ادارے (EPA) کے اختیارات کو محدود کرنے کے لیے 'اینڈ ای پی اے ابیوز ایکٹ' (End EPA Abuse Act) کے نام سے ایک نئی قانون سازی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ یہ مجوزہ قانون ملک میں بیوروکریٹک مداخلت کو کم کرنے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ حامیوں کا ماننا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ای پی اے نے اپنے دائرہ کار سے تجاوز کرتے ہوئے امریکی معیشت اور نجی زندگیوں پر غیر ضروری دباؤ ڈالا ہے، جسے اب محدود کرنے کی ضرورت ہے۔
اس قانون کے حامیوں کا موقف ہے کہ وفاقی ایجنسیوں کی جانب سے مسلط کردہ سخت ماحولیاتی ضوابط نے کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ 'کلائمیٹ سائیکوسس' یا موسمیاتی نفسیات کے نام پر پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں جو حقیقت پسندی سے دور ہیں اور ان کا مقصد صرف سرکاری کنٹرول کو بڑھانا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت ای پی اے کی ان صلاحیتوں پر قدغن لگائی جائے گی جن کے ذریعے وہ نجی شعبے کی سرگرمیوں میں مداخلت کرتی ہے۔
قانون کے حامی ارکان کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ماحولیاتی ریگولیشن کو اس کے اصل اور محدود دائرہ کار میں واپس لانے کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جب تک ان ضوابط کو قانونی حدود میں نہیں لایا جاتا، تب تک نجی کاروبار اور معاشی ترقی کا پہیہ تیزی سے نہیں گھوم سکتا۔ یہ بل نہ صرف ریگولیٹری نظام میں شفافیت لانے کا وعدہ کرتا ہے بلکہ وفاقی ایجنسیوں کو جوابدہ بنانے کے لیے بھی ایک مضبوط قانونی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب، ماحولیاتی کارکنوں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قانون سازی سے ماحول کے تحفظ کے لیے کی جانے والی دہائیوں پرانی محنت ضائع ہو سکتی ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ کلائمیٹ چینج ایک عالمی حقیقت ہے اور اسے کسی بھی قسم کی سیاست یا معاشی بحث سے بالا تر ہو کر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بحث اب امریکی ایوانوں میں زور پکڑ رہی ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ ایکٹ قانون کی شکل اختیار کر پاتا ہے یا اسے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔