Technology
ایپل اور روس کے درمیان تنازع: مقامی ایپس انسٹال نہ کرنے پر کارروائی
روس کے اینٹی ٹرسٹ ریگولیٹر نے ایپل کے خلاف ایک باضابطہ کیس درج کیا ہے کیونکہ کمپنی نے روسی ساختہ ایپس کو اپنے آلات میں پہلے سے انسٹال کرنے کی پابندی پوری نہیں کی۔ روس کا مطالبہ ہے کہ ایپل اپنے صارفین کو مقامی ایپس بشمول میکس میسنجر اور رسٹور تک رسائی فراہم کرے۔
روس کی جانب سے عالمی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے خلاف ایک اہم قانونی محاذ کھول دیا گیا ہے، جہاں ملک کے اینٹی ٹرسٹ ریگولیٹر نے کمپنی کے خلاف باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ اقدام ایپل کی جانب سے روسی حکومت کی طرف سے لازمی قرار دی گئی ایپس کو اپنے ڈیوائسز میں پہلے سے انسٹال نہ کرنے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ روسی حکام کا مطالبہ ہے کہ ایپل اپنے آلات پر میکس میسنجر اور مقامی ایپ اسٹور 'رسٹور' (RuStore) کی تنصیب کو یقینی بنائے۔ یہ معاملہ روسی حکومت کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت تمام غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے آلات پر مقامی سافٹ ویئر شامل کرنا لازم ہے۔ ایپل، جو اپنی سخت پرائیویسی پالیسی اور اپنے ایپ اسٹور کے کنٹرول کے حوالے سے جانا جاتا ہے، ماضی میں بھی روس کے ان سخت قوانین پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ تاہم، روسی ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ کمپنی قانون کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہے جس سے روسی صارفین کے لیے مقامی ایپس تک رسائی محدود ہو رہی ہے۔ اگر یہ قانونی تنازع بڑھتا ہے تو ایپل کو روس میں بھاری جرمانے یا دیگر سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی یہ حکمت عملی دراصل اپنے ڈیجیٹل ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے اور غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اس سے قبل بھی روس نے متعدد بار ٹیکنالوجی کمپنیوں پر اپنے قوانین لاگو کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے جس کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی مقامی ڈیٹا سرورز کے استعمال پر مجبور کیا گیا ہے۔ ایپل کی انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک اس کیس پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کمپنی اس صورتحال میں کس طرح کا موقف اختیار کرتی ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تنازعہ دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بھی ایک انتباہ ہے جو روس کی وسیع مارکیٹ میں کاروبار کرنا چاہتی ہیں۔