LIVE
Loading Breaking News...

چین کی عسکری ترقی اور آسٹریلیا کے لیے سیکیورٹی خدشات

News Image
آسٹریلوی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیتیں آسٹریلیا کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج بن سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بیجنگ کے پاس جلد ایسے میزائل ہوں گے جو آسٹریلیا کے اہم شہروں کو نشانہ بنانے کی اہلیت رکھتے ہوں گے۔
آسٹریلیا میں دفاعی اور سٹریٹجک امور کے ماہرین نے ملک کی قومی سلامتی کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیتوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بیجنگ اپنے عسکری ڈھانچے کو جس تیزی سے جدید بنا رہا ہے، اس سے جلد ہی وہ ایسی صلاحیت حاصل کر لے گا جس کے ذریعے آسٹریلیا کے مرکزی شہروں کو دور مار میزائلوں سے نشانہ بنانا ممکن ہو سکے گا۔ یہ پیش رفت انڈو پیسیفک خطے میں طاقت کے روایتی توازن کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کا عسکری دائرہ کار اب صرف قریبی علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ عالمی سطح پر اپنی موجودگی کو مضبوط کر رہا ہے۔ خاص طور پر میزائل ٹیکنالوجی میں چین کی پیش رفت آسٹریلوی دفاعی منصوبہ سازوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ چین نہ صرف روایتی ہتھیاروں بلکہ سائبر اور ہائبرڈ جنگی حکمت عملیوں کے ذریعے بھی دوسرے ممالک کو غیر مستحکم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے لیے ضروری نہیں کہ ہمیشہ روایتی بمباری کا سہارا لیا جائے۔ آسٹریلوی میڈیا میں آنے والی رپورٹس کے مطابق اس صورتحال نے کینبرا کے حکومتی ایوانوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ آسٹریلیا اپنے دفاعی بجٹ میں اضافے اور امریکہ کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک اتحاد 'اوکس' (AUKUS) کو مزید مضبوط کرنے پر غور کر رہا ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین کی جانب سے بڑھتا ہوا دباؤ محض فوجی نہیں بلکہ اقتصادی اور سیاسی بھی ہے، جس کا مقصد خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنا اور مغرب کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔ آخر میں، ماہرین نے آسٹریلوی عوام اور حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اس بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کے تناظر میں ہوشیار رہیں۔ آنے والے سالوں میں انڈو پیسیفک خطہ عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بنے گا، اور آسٹریلیا کو اپنی قومی خود مختاری کے تحفظ کے لیے نہ صرف دفاعی بلکہ سفارتی سطح پر بھی انتہائی دانشمندانہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہوگی۔ یہ صورتحال صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے مستقبل کا سوال بن چکی ہے۔