World
اویا اسٹیٹ پنشن تنازع: ریٹائرڈ ملازمین کا احتجاج کا فیصلہ
نائیجیریا کی ریاست اویا میں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین نے پنشن کی ادائیگی نہ ہونے پر یونیورسٹی اور ٹیچنگ ہسپتال کے خلاف غیر معینہ مدت تک احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ پنشنرز کا کہنا ہے کہ گورنر ماکنڈے کے احکامات کے باوجود انتظامیہ ان کے واجبات ادا کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔
نائیجیریا کی ریاست اویا میں صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب ریٹائرڈ ملازمین کی ایک بڑی تعداد نے ایمانوئل الایانڈے یونیورسٹی اور لاٹیک (LAUTECH) ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامیہ کے خلاف غیر معینہ مدت تک احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس احتجاج کا بنیادی سبب پنشنرز کے واجبات کی طویل عرصے سے جاری عدم ادائیگی ہے۔ ریٹائرڈ ملازمین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسلسل لاپرواہی اور وعدہ خلافی ان کے لیے معاشی بحران کا باعث بن رہی ہے، جس کے بعد اب ان کے پاس سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔rnریٹائرڈ ملازمین نے اس بات پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے کہ ریاست کے گورنر ماکنڈے کی جانب سے پنشن کی ادائیگی کے واضح احکامات جاری کیے گئے تھے، تاہم متعلقہ تعلیمی اور طبی اداروں کی انتظامیہ نے ان احکامات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔ پنشنرز کا موقف ہے کہ گورنر کے احکامات پر عمل درآمد نہ کرنا نہ صرف سرکاری حکم عدولی ہے بلکہ یہ ان بزرگ شہریوں کے ساتھ بھی ایک بڑا ظلم ہے جنہوں نے اپنی زندگی کے بہترین سال ان اداروں کی خدمت میں گزارے۔ اس صورتحال نے پنشنرز میں اضطراب پیدا کر دیا ہے اور انہوں نے اپنی مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔rnاحتجاج کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی یونیورسٹی اور ٹیچنگ ہسپتال کے داخلی راستوں کو بند کریں گے اور اپنا پرامن دھرنا شروع کریں گے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ گورنر ہاؤس اس معاملے میں فوری مداخلت کرے اور انتظامیہ پر دباؤ ڈالے تاکہ پنشن کی رقوم کی بروقت اور مکمل ادائیگی یقینی بنائی جا سکے۔ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو یہ احتجاج دیگر سرکاری اداروں تک بھی پھیل سکتا ہے۔ اس وقت ریاست بھر میں اس مسئلے پر بحث جاری ہے اور عوام کی ہمدردیاں ریٹائرڈ ملازمین کے ساتھ ہیں۔rnدوسری جانب، انتظامیہ کی طرف سے فی الحال کوئی ٹھوس ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جس کی وجہ سے پنشنرز کے غم و غصے میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے کو جلد حل نہ کیا گیا تو یہ تعلیمی اور طبی شعبوں میں کام کے معمول کے نظام کو درہم برہم کر سکتا ہے۔ ریاستی حکومت کو اب فوری طور پر فنڈز کے اجراء اور انتظامیہ کی جوابدہی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ پنشنرز کو ان کے جائز حقوق مل سکیں اور سماجی بے چینی کو ختم کیا جا سکے۔