LIVE
Loading Breaking News...

ڈیلٹا اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے مواقع پر اقتصادی سمٹ کا انعقاد

News Image
نائب صدر کاشم شیٹیما اور دیگر ممتاز شخصیات نے ڈیلٹا اسٹیٹ کے معاشی امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یہاں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ریاست میں معاشی مقابلہ بازی کو فروغ دے کر پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنا ہے۔
نائب صدر کاشم شیٹیما نے حال ہی میں ایک اہم اقتصادی سمٹ کے دوران مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ ڈیلٹا اسٹیٹ کی وسیع معاشی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاستوں کے درمیان صحت مند مسابقت، جو کہ ان کی تقابلی خصوصیات پر مبنی ہو، قومی معاشی ترقی اور خوشحالی کے حصول کا سب سے یقینی راستہ ہے۔ اس سمٹ میں عالمی تجارتی تنظیم کی سربراہ ڈاکٹر نگوزی اوکونجو آئیویلا اور معروف کاروباری شخصیت ٹونی ایلومیلو سمیت متعدد اہم ماہرین نے شرکت کی اور ریاست کو سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کے لیے حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر شیٹیما نے کہا کہ ڈیلٹا اسٹیٹ کے پاس قدرتی وسائل اور افرادی قوت کا ایک ایسا خزانہ موجود ہے جسے اگر درست منصوبہ بندی کے تحت استعمال کیا جائے تو یہ نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک کی معیشت میں انقلابی تبدیلی لا سکتا ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت ایسی پالیسیاں تشکیل دے رہی ہے جس سے کاروباری ماحول کو سازگار بنایا جا سکے اور نجی شعبے کی شرکت کو مزید بڑھایا جا سکے۔ ڈاکٹر نگوزی اوکونجو آئیویلا نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی معیارات کے مطابق ڈیلٹا اسٹیٹ کو ایک تجارتی حب کے طور پر متعارف کروانے کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔ سمٹ میں موجود ٹونی ایلومیلو اور دیگر صنعت کاروں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ریاست میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائیجیریا کی ریاستوں کے درمیان معاشی دوڑ دراصل ملک کو خود کفیل بنانے کا ایک ذریعہ ہے۔ تمام مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتی سرپرستی اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے درمیان ایک مضبوط پل بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ڈیلٹا اسٹیٹ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور غربت کے خاتمے میں مدد مل سکے۔ یہ سمٹ اس حوالے سے سنگ میل ثابت ہوگی کہ کیسے مقامی وسائل کو عالمی مارکیٹ تک پہنچایا جائے۔