LIVE
Loading Breaking News...

سائبر سیکیورٹی رسک اسسمنٹ: روایتی طریقے کیوں غیر مؤثر ہیں؟

News Image
سائبر سیکیورٹی کے ماہر لیوک ارون کا کہنا ہے کہ روایتی ہیٹ میپس اور رسک اسسمنٹ کے طریقے موجودہ دور کے پیچیدہ خطرات کو سمجھنے میں ناکام ہیں۔ یہ طریقہ کار ڈیٹا کی غلط عکاسی کرتے ہیں جس سے اداروں کی سیکیورٹی کو مزید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
آج کے دور میں جب سائبر حملے تیزی سے پیچیدہ اور خطرناک ہو رہے ہیں، سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کا ایک بڑا طبقہ اس بات پر متفق ہے کہ روایتی 'رسک اسسمنٹ' کے طریقے اپنی افادیت کھو چکے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی کی دنیا میں عام طور پر استعمال ہونے والے 'رسک ہیٹ میپس' (Risk Heatmaps) دیکھنے میں تو انتہائی منظم اور کارآمد نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ اکثر گمراہ کن ہوتے ہیں۔ ایجیس سائبر سیکیورٹی کے بانی لیوک ارون نے حال ہی میں اس مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے نشاندہی کی ہے کہ یہ روایتی طریقہ کار موجودہ ڈیجیٹل خطرات کی حقیقی نوعیت کو سمجھنے میں بری طرح ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ روایتی رسک اسسمنٹ میں اکثر اعداد و شمار کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے جو دیکھنے میں 'صاف ستھرا' لگتا ہے، لیکن یہ طریقہ اصل خطرات کو چھپا دیتا ہے۔ جب تنظیمیں اپنے انفراسٹرکچر میں موجود کمزوریوں کو ہیٹ میپ کے ذریعے دکھاتی ہیں، تو وہ اکثر اہم اور فوری خطرات کو معمولی سمجھ لیتی ہیں۔ لیوک ارون کے مطابق، یہ طریقہ کار سائبر خطرات کی متحرک نوعیت (Dynamic Nature) کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ سائبر حملے کرنے والے گروہ مسلسل اپنی تکنیکیں بدل رہے ہیں، جبکہ روایتی رسک اسسمنٹ ماڈل جامد (Static) ہوتے ہیں جو بہت جلد پرانے ہو جاتے ہیں۔ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ اداروں کو اب روایتی ہیٹ میپس سے ہٹ کر زیادہ مربوط اور حقیقی وقت پر مبنی سیکیورٹی تجزیہ اپنانا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف سسٹم کی کمزوریوں کا تعین کیا جائے بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ حملہ آور ان کمزوریوں کو کس طرح اور کتنی تیزی سے استعمال کر سکتے ہیں۔ ایک مؤثر سائبر رسک اسسمنٹ وہی ہے جو مسلسل تبدیل ہوتا رہے اور جس میں انسانی فیصلے اور جدید ٹیکنالوجی کا درست امتزاج موجود ہو۔ خلاصہ یہ کہ سائبر سیکیورٹی کا مستقبل اب روایتی چیک لسٹوں یا ہیٹ میپس میں نہیں بلکہ گہری بصیرت اور فعال دفاعی حکمت عملیوں میں مضمر ہے۔ جب تک کمپنیاں اپنے روایتی طریقوں کو جدید دور کے مطابق نہیں ڈھالیں گی، تب تک وہ ہمیشہ سائبر مجرموں سے ایک قدم پیچھے رہیں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کو اپنایا جائے اور روایتی رسک اسسمنٹ کے ان خولوں سے باہر نکلا جائے جو صرف ایک جھوٹا تحفظ کا احساس فراہم کرتے ہیں۔