LIVE
Loading Breaking News...

مون سون اور سیلابی صورتحال: پاک فوج کی امدادی کارروائیوں پر آمادگی

News Image
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ ملک میں مون سون کی صورتحال اور ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے مسلح افواج سول انتظامیہ کی مدد کو تیار ہیں۔ انہوں نے اداروں کے مابین بہترین رابطہ کاری اور بروقت تیاری کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
راولپنڈی: چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے ملک بھر میں مون سون کے سیزن کے دوران متوقع بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سول انتظامیہ کو ہنگامی بنیادوں پر تمام ضروری تعاون فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حالیہ موسمی تغیرات اور پیشگوئیوں کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنا چاہیے تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت سے بروقت اور موثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔ آرمی چیف نے کہا کہ مسلح افواج قومی فریضہ سمجھتے ہوئے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گی۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق ملک کے مختلف حصوں بالخصوص شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ اور شدید بارشوں کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے اداروں کے مابین باہمی تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس پس منظر میں آرمی چیف کا یہ بیان انتہائی بروقت ہے، جس میں تمام متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطہ کاری اور پیشگی تیاریوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ ریسکیو اور ریلیف کے محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنے ذرائع اور افرادی قوت کو مکمل طور پر تیار رکھیں۔ ماہرینِ موسمیات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اور پیشگی اقدامات نہ کیے گئے تو مون سون کی شدت ملک میں بڑے پیمانے پر مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی تناظر میں مسلح افواج کی جانب سے ریلیف آپریشنز میں مدد کی یقین دہانی نے حکومتی اور انتظامی حلقوں کو بڑی حد تک مطمئن کیا ہے۔ فوج کے امدادی دستے اور میڈیکل ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں فوری رسائی کے لیے پہلے ہی سے ہائی الرٹ پر رکھی گئی ہیں تاکہ کسی بھی آفت کی صورت میں متاثرین تک فوری امداد پہنچائی جا سکے۔ حکومت اور عسکری قیادت اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ مشکل کی ہر گھڑی میں عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح رہے گا۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مون سون سیزن کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ضلعی انتظامیہ یا ریسکیو اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ اداروں کی مربوط حکمت عملی اور عوام کے تعاون سے ہی ممکنہ خطرات اور نقصانات کو کم سے کم سطح پر رکھا جا سکتا ہے۔