LIVE
Loading Breaking News...

افغانستان میں غذائی قلت اور بچوں کی اموات کا بحران

News Image
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں غذائی امداد کی قلت کے باعث بچوں میں غذائیت کی کمی بحرانی شکل اختیار کر گئی ہے۔ فنڈز کی کمی کی وجہ سے امدادی سرگرمیاں محدود ہونے سے ہزاروں بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹس میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ملک کے 12 مختلف صوبوں میں بچوں میں غذائیت کی کمی کا تناسب انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ چکا ہے، جس کے نتیجے میں اموات کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی امداد میں متوقع کٹوتیوں اور فنڈز کی عدم دستیابی نے اس انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جس کے براہ راست اثرات معصوم بچوں کی زندگیوں پر پڑ رہے ہیں۔ افغانستان میں جاری غذائی بحران اب قابو سے باہر ہوتا دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ امدادی تنظیموں کے پاس وسائل کی شدید قلت ہے۔ ماضی میں دی جانے والی امداد میں نمایاں کمی کے باعث لاکھوں خاندان اپنے بچوں کو دو وقت کا کھانا فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر بین الاقوامی برادری نے تعاون نہ کیا تو آنے والے مہینوں میں صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں طبی سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث غذائیت کا شکار بچوں کو بروقت علاج بھی میسر نہیں، جس سے ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ جب امداد کا سلسلہ رکتا ہے تو اس کی سب سے بھاری قیمت ملک کے بچے ادا کرتے ہیں۔ افغانستان کے ہسپتالوں میں غذائیت کی کمی کے شکار بچوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں ڈاکٹرز بنیادی ادویات اور خوراک کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ایک طبی بحران ہے بلکہ ایک انسانی المیہ بھی ہے جو پورے خطے کے استحکام پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر افغان عوام، بالخصوص بچوں کی جانیں بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر امداد کی فراہمی یقینی بنائے۔ مستقبل کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں شدید جسمانی اور ذہنی معذوری کا شکار ہو سکتی ہیں۔ افغانستان میں کام کرنے والی این جی اوز کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اب وسائل تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور وہ اس قابل نہیں رہے کہ ہزاروں بھوکے بچوں کو خوراک فراہم کر سکیں۔ یہ بحران اب ایک ایسی نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں ایک ایک دن کی تاخیر مزید کئی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔ عالمی سطح پر اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس بڑھتی ہوئی اموات کے سلسلے کو روکا جا سکے۔