LIVE
Loading Breaking News...

اسحاق ڈار کا اردن کا دورہ: مقبوضہ بیت المقدس کی صورتحال پر اہم بات چیت

News Image
وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار مقبوضہ بیت المقدس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مقدس مقامات کے تحفظ کے حوالے سے منعقدہ وزارتی اجلاس میں شرکت کے لیے اردن پہنچ گئے ہیں۔ پاکستان نے اس موقع پر فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور اسرائیلی جارحیت پر اپنی شدید تشویش کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار مقبوضہ بیت المقدس کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اردن کے دارالحکومت عمان پہنچ گئے ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ دورہ ایک اہم وزارتی اجلاس کے سلسلے میں کیا گیا ہے جس میں اسلامی دنیا کے نمائندگان مقبوضہ علاقوں بالخصوص مقدس مقامات کو لاحق خطرات پر غور و خوض کریں گے۔ اردن کی جانب سے جاری کردہ انتباہ میں کہا گیا ہے کہ یروشلم میں مسلمانوں کے سب سے اہم مذہبی مقامات کو اسرائیلی قبضے کے فوری خطرات کا سامنا ہے، جس کے پیش نظر یہ اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس دورے سے قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفادی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا تھا۔ اس بات چیت کے دوران دونوں رہنماؤں نے علاقائی پیش رفت، سفارتی کوششوں اور غزہ کی سنگین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ پاکستان فلسطین کے معاملے پر اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور خطے میں اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے۔ اسحاق ڈار نے اردنی ہم منصب کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ پاکستان اور ترکیہ نے بھی اس موقع پر فلسطین کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اس وزارتی اجلاس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے تاکہ مقدس مقامات کے تقدس کو یقینی بنایا جا سکے اور اسرائیل پر عالمی دباؤ بڑھایا جا سکے۔ پاکستان کی جانب سے اس اعلیٰ سطح کے دورے کو فلسطینیوں کی حمایت میں ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان کا ماننا ہے کہ بیت المقدس کے مسئلے پر مسلم دنیا کو متحد ہو کر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی قسم کے یکطرفہ اقدامات کو روکا جا سکے۔