LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں سابق نو نازی کارکن کی انتخابی نامزدگی پر ہنگامہ

News Image
برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی نے جوشوا بونہل پین کو 2027 کے کونسل انتخابات کے لیے امیدوار نامزد کیا ہے، جس پر یہودی تنظیموں کی جانب سے سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ پارٹی قیادت نے تنازع کو ختم کرنے کے لیے یہودی تنظیموں کے نمائندوں کو خصوصی ملاقات کی پیشکش کی ہے۔
برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی (ٹوریز) کو اس وقت ایک بڑے سیاسی تنازع کا سامنا ہے جب پارٹی نے جوشوا بونہل پین کو 2027 کے سمرسیٹ کونسل انتخابات کے لیے امیدوار نامزد کرنے کا فیصلہ کیا۔ جوشوا بونہل پین کا ماضی انتہا پسندانہ سرگرمیوں سے جڑا رہا ہے اور وہ ماضی میں نو نازی نظریات کی تشہیر اور نفرت انگیز جرائم کے الزامات کے تحت قید کی سزا بھی کاٹ چکے ہیں۔ اس نامزدگی کے سامنے آتے ہی برطانیہ کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور مختلف یہودی تنظیموں نے پارٹی کے اس فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے شخص کو عوامی نمائندگی کے لیے منتخب کرنا جس کا ماضی نسل پرستی اور انتہا پسندی پر مبنی ہو، جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ اس شدید تنقید کے پیش نظر، کنزرویٹو پارٹی نے فوری طور پر ڈیمج کنٹرول کی حکمت عملی اپناتے ہوئے یہودی برادری کی اہم تنظیموں اور نمائندوں کو اس معاملے پر بات چیت کے لیے ملاقات کی دعوت دی ہے۔ پارٹی ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ ان تحفظات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ پارٹی کے امیدواروں کا انتخاب پارٹی کے ضابطہ اخلاق کے مطابق ہو۔ تاہم، یہودی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ بونہل پین کی نامزدگی کو فی الفور منسوخ کیا جائے کیونکہ کسی بھی نو نازی نظریات کے حامل شخص کے لیے انتخابی میدان میں جگہ بنانا معاشرتی ہم آہنگی کے لیے خطرہ ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ معاملہ کنزرویٹو پارٹی کے لیے ایک بڑی اخلاقی آزمائش بن چکا ہے۔ ایک جانب پارٹی اپنے مقامی نیٹ ورک کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تو دوسری جانب ایسے متنازع امیدواروں کی موجودگی پارٹی کے تشخص کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ جوشوا بونہل پین کا معاملہ صرف ایک انتخابی حلقے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ اس وسیع تر بحث کو بھی جنم دے رہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے امیدواروں کے ماضی کی جانچ پڑتال کس حد تک کرنی چاہیے۔ اب سب کی نظریں اس ممکنہ ملاقات پر مرکوز ہیں کہ آیا کنزرویٹو پارٹی اس دباؤ کے بعد اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتی ہے یا اسے برقرار رکھنے پر اصرار کرتی ہے۔