World
شمالی کوریا اور جاپان میں کشیدگی: کم یو جونگ کی جاپان کو تنبیہ
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے جاپان پر دفاعی حدود سے تجاوز کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے جاپان کے حالیہ میزائل تجربات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کی بااثر بہن اور اعلیٰ عہدیدار کم یو جونگ نے جاپان کے خلاف شدید فوجی دھمکی جاری کی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں میزائل تجربات اور فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کم یو جونگ نے اپنے بیان میں واضح طور پر کہا کہ جاپان اب اپنی روایتی دفاعی پالیسی سے تجاوز کر رہا ہے، جو خطے کے امن و امان کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے جاپان کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ میزائل تجربات کو براہ راست شمالی کوریا کے لیے اشتعال انگیزی قرار دیا۔
کم یو جونگ نے اپنے سخت لہجے میں کہا کہ شمالی کوریا اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے کسی بھی جارحانہ اقدام کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جاپان کی جانب سے خود کو ایک ایسی فوجی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کا مقصد شمالی کوریا کی نقل و حرکت کو محدود کرنا ہے، تاہم پیانگ یانگ اس طرح کے اقدامات کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جاپان اپنی جارحانہ پالیسیوں سے باز نہیں آیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ کم یو جونگ کا یہ بیان خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کا عکاس ہے۔ جاپان اور شمالی کوریا کے درمیان طویل عرصے سے کشیدگی پائی جاتی ہے، جس کی بنیادی وجہ میزائل پروگرام اور جزیرہ نما کوریا پر سیاسی اختلافات ہیں۔ عالمی طاقتیں اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق کم یو جونگ کا بیان شمالی کوریا کے اس موقف کو مضبوط کرتا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔
آئندہ دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ جاپان اس دھمکی پر کیا ردعمل دیتا ہے اور کیا بین الاقوامی برادری اس معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کرتی ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے وقتاً فوقتاً کی جانے والی یہ سخت تنبیہات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مشرقی ایشیا میں سکیورٹی کی صورتحال کتنی نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ فی الحال پیانگ یانگ نے اپنی فوجی تیاریوں کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے جس سے خطے میں مزید بے یقینی پیدا ہونے کا امکان ہے۔