LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں ڈیلینی ہال حراستی مرکز میں قیدی کی ہلاکت پر احتجاج

News Image
امریکہ کے ڈیلینی ہال حراستی مرکز میں ایک اور قیدی کی پراسرار موت پر عوامی غصے میں اضافہ ہو گیا ہے۔ مظاہرین نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے حکام سے واقعے کی شفاف تحقیقات اور جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکہ کے ڈیلینی ہال حراستی مرکز میں ایک اور قیدی کی ہلاکت کے بعد مقامی انسانی حقوق کے کارکنوں اور تارکین وطن کی تنظیموں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مرنے والے شخص کی شناخت 41 سالہ ایڈون لوپیز کورنیجو کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق ایل سلواڈور سے تھا۔ یہ اس حراستی مرکز میں ہلاکت کا دوسرا واقعہ ہے، جس کے بعد امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات اور قیدیوں کے تحفظ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومتی اداروں کی غفلت کے باعث انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے اور اس معاملے کو کسی صورت دبانے نہیں دیا جائے گا۔ واقعے کے بعد مختلف تنظیموں نے ڈیلینی ہال کے باہر احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں، جن میں شرکاء نے ICE حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ہلاکت کی مکمل اور شفاف تحقیقات کریں۔ مظاہرین کا موقف ہے کہ حراستی مراکز میں طبی سہولیات کی عدم فراہمی اور سخت حالات تارکین وطن کی زندگیوں کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ایڈون لوپیز کورنیجو کی موت کو ایک المیہ قرار دیتے ہوئے سول سوسائٹی کے ارکان نے کہا کہ حکام کو قیدیوں کی حفاظت کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو مزید انسانی جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ دوسری جانب ICE کے حکام نے تاحال اس واقعے پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا ہے، جس سے مظاہرین کے تحفظات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ انسانی حقوق کے وکلاء کا کہنا ہے کہ حراستی مراکز میں قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک اور وہاں کی طبی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک آزاد انکوائری کمیشن قائم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر ڈیلینی ہال میں قیدیوں کی طبی رپورٹس کو منظر عام پر لائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ اس واقعے نے تارکین وطن کے حقوق کے حوالے سے امریکہ میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حراستی نظام میں بنیادی اصلاحات کی جائیں۔