LIVE
Loading Breaking News...

مقبوضہ مغربی کنارہ: اسرائیل کی جانب سے 37 ملین ڈالر کی نئی فنڈنگ جاری

News Image
اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں تاریخی مقامات پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کرنے کے لیے 37 ملین ڈالر کے فنڈز کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان علاقوں میں تعمیراتی کاموں کو تیز کرنا اور اسرائیلی اثر و رسوخ کو بڑھانا ہے۔
اسرائیلی حکومت نے حال ہی میں ایک متنازعہ فیصلے کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں 70 سے زائد تاریخی اور اہم مقامات پر اپنا قبضہ مزید مستحکم کرنے کے لیے 37 ملین ڈالر کے خصوصی فنڈز کی منظوری دی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فنڈز ان علاقوں میں اسرائیلی اثر و رسوخ بڑھانے اور وہاں پر موجود تاریخی مقامات کے تحفظ اور ترقی کے نام پر خرچ کیے جائیں گے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا اصل مقصد ان علاقوں پر اسرائیلی گرفت کو مضبوط کرنا ہے۔ اس فیصلے پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا ماننا ہے کہ یہ اقدام مقبوضہ علاقوں کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ مغربی کنارے میں ان مقامات کی شناخت اور انہیں اسرائیلی تحویل میں لینے کا عمل پہلے سے جاری تھا، لیکن اب اس بڑی مالی گرانٹ کے ذریعے اس عمل میں تیزی لائی جائے گی۔ اس منصوبے کے تحت ان مقامات پر نئے انفراسٹرکچر کی تعمیر اور سکیورٹی انتظامات کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی، جس سے مقامی فلسطینی آبادی کے لیے مزید مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت مقبوضہ علاقوں میں اس طرح کی تبدیلیوں اور قبضہ کرنے کی کارروائیوں کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ تاہم، اسرائیلی انتظامیہ مسلسل ان علاقوں میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس تازہ فنڈنگ کا مقصد طویل مدتی حکمت عملی کے تحت زمینوں کے حصول اور وہاں یہودی بستیوں کے نیٹ ورک کو وسعت دینا ہے۔ اس اقدام کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ فلسطینی قیادت نے اس فیصلے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو ان غیر قانونی سرگرمیوں سے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پہلے ہی مقبوضہ علاقوں میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور زمینوں کے تنازعات کے باعث مقامی آبادی کو سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔