LIVE
Loading Breaking News...

امریکی اسٹاک مارکیٹ کا نیا ریکارڈ، تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ

News Image
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جاری مذاکرات میں پیشرفت کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس مثبت پیشرفت سے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ گیا ہے اور مارکیٹ نئی ریکارڈ سطحوں پر پہنچ گئی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک بڑی ہلچل اس وقت دیکھنے میں آئی جب امریکی اسٹاک مارکیٹ اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اس تیزی کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے جاری مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ کو تجارتی آمدورفت کے لیے بحال کرنے کے حوالے سے دیے گئے حالیہ بیانات نے سرمایہ کاروں میں امید کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات وال اسٹریٹ کے انڈیکس پر نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب اس خبر کا براہِ راست اثر تیل کی بین الاقوامی قیمتوں پر بھی پڑا ہے، جہاں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی ترسیل کے لیے سب سے اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے اور اس کے بند ہونے یا اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ سے عالمی سطح پر توانائی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ تاہم، اب جبکہ اس گزرگاہ کے کھلنے کے امکانات روشن ہو رہے ہیں، مارکیٹ میں سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کم ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں تیل کے نرخوں میں استحکام آ رہا ہے جو عالمی معیشت کے لیے ایک مثبت علامت ہے۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو عالمی سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں دور ہو جائیں گی، جس سے افراطِ زر (انفلیشن) پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ کے ریکارڈ توڑنے کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ کار اب عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال میں بہتری کی توقع کر رہے ہیں۔ اگرچہ حالات ابھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے، لیکن اسٹاک مارکیٹ کا ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ کے شرکاء آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکی سفارتی کوششوں کو انتہائی سنجیدگی اور مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ مستقبل کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر تیل کی قیمتوں میں کمی کا یہ رجحان برقرار رہا تو یہ دنیا بھر کے صارفین کے لیے ریلیف کا باعث بنے گا اور مہنگائی کی شرح میں کمی لانے میں معاون ثابت ہوگا۔ امریکی حکام کی جانب سے اس نازک معاملے پر کی جانے والی کوششیں نہ صرف تجارتی راستوں کی بحالی کے لیے ضروری ہیں بلکہ یہ عالمی مارکیٹ میں اعتماد بحال کرنے کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز کی صورتحال پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز رہیں گی۔