World
یوکرینی شہری کی روسی ڈرون سے بچنے کی خوفناک داستان
یوکرین کے ایک شہری نے روسی ڈرون حملے کا شکار ہونے کے خوفناک واقعے کو بیان کرتے ہوئے اپنی زندہ بچ جانے کی کہانی سنائی ہے۔ ڈرون کے تعاقب اور پھر اس کے دھماکے سے پھٹ جانے کے مناظر نے شہری کو شدید نفسیاتی صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔
یوکرین میں جاری کشیدگی اور جنگی حالات نے عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ حال ہی میں ایک یوکرینی شہری نے اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک انتہائی خوفناک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ایک مشتبہ روسی ڈرون نے اس کا پیچھا کیا اور پھر اس کے سر کے اوپر یا قریب پہنچ کر زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔ یہ واقعہ جنگ کی ہولناکیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے، جہاں عام لوگ اب گھروں سے باہر نکلتے ہوئے بھی اپنی جان و مال کے حوالے سے غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ وہ اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھا جب اسے اچانک ڈرون کے اڑنے کی مخصوص آواز سنائی دی۔ جیسے ہی اس نے اوپر دیکھا تو اسے اندازہ ہوا کہ ڈرون کا رخ براہ راست اس کی جانب ہے۔ اس نے بتایا کہ خوف کے مارے اس کی حالت غیر ہو گئی تھی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ یہ ڈرون اسے ہدف بنا رہا ہے۔ اس نے اپنی جان بچانے کے لیے بھرپور دوڑ لگائی اور کسی محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں ادھر ادھر بھاگتا رہا، جبکہ ڈرون مسلسل اس کے تعاقب میں تھا۔
واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے شہری نے کہا کہ جب وہ ایک محفوظ مقام کے قریب پہنچا تو ڈرون نے اچانک رفتار بڑھائی اور دھماکہ خیز مواد کے ساتھ زمین پر آ گرا۔ زوردار دھماکے کے نتیجے میں چاروں طرف گرد و غبار پھیل گیا اور شدید آواز سے کان پڑی آواز سنائی دینا بند ہو گئی۔ وہ بال بال بچ گیا، لیکن اس واقعے نے اس کے ذہن پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس طرح کے واقعات یوکرین کے ان علاقوں میں معمول بنتے جا رہے ہیں جہاں شہری آبادی کو ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنگی ڈرونز کا استعمال شہری علاقوں میں انسانی حقوق کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ اس یوکرینی شہری کی کہانی نہ صرف ایک شخص کی بقا کی جنگ ہے بلکہ یہ ان ہزاروں لوگوں کی ترجمانی کرتی ہے جو ہر روز ایسے ہی خوف کے سائے میں جینے پر مجبور ہیں۔