LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں گیس سیکٹر کی تنظیم نو، دو کمپنیوں کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا

News Image
حکومت پاکستان ملکی گیس سیکٹر میں اصلاحات کے تحت سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گیس کمپنیوں کو پانچ الگ الگ اداروں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس اقدام کا مقصد گیس کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور نجی شعبے کی شمولیت کے مواقع بڑھانا ہے۔
وفاقی حکومت نے ملک میں گیس کے شعبے کو جدید اور مالی طور پر مستحکم بنانے کے لیے اہم اصلاحاتی منصوبے کو حتمی شکل دینے کا عمل تیز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ملک کی دو بڑی گیس کمپنیاں، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (SSGCL) کو پانچ الگ الگ اداروں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ان پانچ اداروں میں ایک قومی گیس ٹرانسمیشن کمپنی جبکہ چار صوبائی سطح کی ڈسٹری بیوشن کمپنیاں شامل ہوں گی۔ اس ماڈل کی تشکیل توانائی کے شعبے میں پہلے سے فعال واپڈا کی ذیلی کمپنیوں کی طرز پر کی جا رہی ہے۔ وزارت پیٹرولیم اور ورلڈ بینک کے درمیان حالیہ مذاکرات میں اسٹریٹجک سمت کی توثیق کی گئی ہے جس کا مقصد گیس کی ویلیو چین میں نجی شعبے کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔ نئے پلان کے مطابق 'نیشنل گیس ٹرانسمیشن کمپنی' (NGTC) کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو دونوں موجودہ کمپنیوں کے ٹرانسمیشن نیٹ ورک کو سنبھالے گی۔ یہ کمپنی کسی بھی قسم کی خرید و فروخت میں ملوث ہونے کے بجائے صرف گیس کی ترسیل کے فرائض انجام دے گی اور دیگر سپلائرز سے ٹرانسمیشن فیس وصول کرے گی۔ دوسری جانب، موجودہ تقسیم کار نیٹ ورک کو تکنیکی اور معاشی بنیادوں پر چار حصوں میں بانٹا جائے گا جس میں آبادی، گیس کی طلب، اور نیٹ ورک کی کارکردگی کو مدنظر رکھا جائے گا۔ حکومتی حکام کا ماننا ہے کہ اس تقسیم سے آپریشنل کارکردگی میں بہتری آئے گی اور گیس کے نقصانات (System Losses) کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ تاہم، اس منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں۔ ماضی میں اوگرا اور دیگر ماہرین نے اس ماڈل کی تکنیکی اور مالیاتی اہلیت پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اس کے علاوہ، دونوں گیس کمپنیوں کے شیئر ہولڈرز بھی اس ان بنڈلنگ (تقسیم) کے عمل کے خلاف ہیں کیونکہ اس سے کمپنیوں کی موجودہ حیثیت ختم ہو جائے گی۔ حکومت کا ارادہ ہے کہ اس عمل کے لیے ایک ٹرانزیکشن ایڈوائزر مقرر کیا جائے جو مکمل روڈ میپ تیار کرے۔ اس حوالے سے وزارت پیٹرولیم کی جانب سے اگست 2026 تک وزیر اعظم سے باقاعدہ منظوری لینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اور صوبائی حکومتوں کو اعتماد میں لینے کے بعد ہی اس عمل کو آگے بڑھایا جائے گا تاکہ گیس سیکٹر میں ایک پائیدار منتقلی ممکن ہو سکے۔