Politics
عمران خان کی رہائی: پی ٹی آئی آج سڑکوں پر، ملک گیر احتجاج کی تیاریاں
پاکستان تحریک انصاف آج بانی عمران خان کی قید کے تین سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں احتجاج کر رہی ہے جس کا مرکزی جلسہ پشاور میں منعقد ہوگا۔ پارٹی قیادت نے پرامن احتجاج کا عزم ظاہر کیا ہے جبکہ مختلف شہروں میں انتظامیہ کی جانب سے رکاوٹوں کے خدشات بھی موجود ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے بانی چیئرمین عمران خان کی قید کے تین سال مکمل ہونے پر آج ملک بھر میں پرامن احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مرکزی نقطہ پشاور کا جلسہ ہوگا، جہاں پارٹی کے سینئر رہنما آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج کا مقصد جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوام کے حق حکمرانی کے لیے آواز اٹھانا ہے اور پارٹی کارکنوں کو تشدد سے دور رہنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھروں سے نکل کر عمران خان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔
ادھر صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں موٹر وے کے قریب ایک بڑا جلسہ منعقد کیا جا رہا ہے جس میں وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اور دیگر صوبائی قیادت شرکت کرے گی۔ پارٹی کے مقامی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ یہ احتجاج حکومت پر دباؤ ڈالنے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوگا۔ دوسری جانب پنجاب کے مختلف اضلاع میں پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور گرفتاریوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم پی ٹی آئی کا عزم ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے سیکیورٹی خدشات اور یوم استحصال کشمیر کے پیش نظر لیاقت باغ میں جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے، جس پر تحریک انصاف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پابندیوں کے باوجود مری روڈ اور لیاقت باغ سمیت شہر کے مختلف مقامات پر مظاہرے کرے گی۔ اسی طرح کراچی میں بھی کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے، جہاں پی ٹی آئی کو انتظامیہ کی جانب سے تاحال اجازت نہیں ملی، جس سے کشیدگی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
علاوہ ازیں اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے لیے آنے والے پارٹی وکلاء اور خاندان کے افراد کو اجازت نہ ملنے پر بھی پی ٹی آئی قیادت نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ علیمہ خان نے امید ظاہر کی ہے کہ پشاور کا جلسہ ملک کی سیاسی صورتحال میں ایک نیا موڑ ثابت ہوگا۔ پارٹی کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل کر عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرے گی اور یہ احتجاج آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔