Pakistan
گلگت بلتستان میں سیلاب کی صورتحال: قراقرم ہائی وے کی بندش اور نقصانات کی تفصیلات
گلگت بلتستان میں بادل پھٹنے اور گلیشیئرز پگھلنے کے باعث آنے والے سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے جس سے مواصلاتی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ غذر کے علاقے میں بننے والی مصنوعی جھیل نے کئی دیہاتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جبکہ حکام نے نشیبی علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
گلگت بلتستان میں حالیہ شدید بارشوں، بادل پھٹنے اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے نتیجے میں آنے والے سیلابی ریلوں نے معمولات زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ چلاس کے قریب الٹاشی نالہ کے مقام پر قراقرم ہائی وے (کے کے ایچ) کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے جس کے باعث سیاحوں اور مقامی افراد کی بڑی تعداد پھنس کر رہ گئی ہے۔ انتظامیہ نے ہنزہ، نگر اور دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے کی وارننگ جاری کرتے ہوئے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
سب سے زیادہ تباہی ضلع غذر میں دیکھی گئی ہے جہاں ایشکومن دریا میں سیلابی ریلے کے باعث مائیون گاؤں میں ایک مصنوعی جھیل بن گئی، جس نے ہاسس گاؤں کے درجنوں مکانات، زرعی اراضی اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر زیر آب کر دیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق کم از کم 15 گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ اسکول اور مساجد بھی پانی کی لپیٹ میں ہیں۔ سیلابی پانی کے دباؤ کے باعث غذر-ایشکومن روڈ مکمل طور پر بند ہو گیا، تاہم بعد ازاں پانی کا اخراج شروع ہونے سے صورتحال میں قدرے بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
ضلع گلگت کی وادی نلتر میں بھی بادل پھٹنے کے واقعات کے بعد سیلابی پانی نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی ہے۔ ریسکیو 1122 کے حکام کے مطابق سیلاب سے 12 مکانات منہدم ہو چکے ہیں اور زرعی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے کئی خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔ گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ امجد حسین نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو فوری طور پر امدادی اور بحالی کے کاموں کو تیز کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ادھر اپر ہنزہ میں بھی گلیشیئرز پگھلنے سے نالوں میں طغیانی کے بعد شاہراہ قراقرم کو وقتی طور پر بند کرنا پڑا۔
دوسری جانب پنجاب میں بھی مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جہاں محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے فلڈ الرٹ جاری کر رکھا ہے۔ صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے جلال پور پیروالا میں حفاظتی بندوں کا معائنہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے سیلاب سے بچاؤ کے لیے 2 ارب روپے کی لاگت سے حفاظتی انتظام کیے ہیں اور تمام متعلقہ ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔ حکام کے مطابق موسم کا یہ سلسلہ بدھ تک جاری رہنے کا امکان ہے اور متاثرہ علاقوں میں نکاسی آب کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔