LIVE
Loading Breaking News...

پی سی بی کی بڑی کامیابی: کرکٹرز کی تنخواہوں کا معاملہ عدالت پہنچ گیا

News Image
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی درخواست پر پاکستان انفارمیشن کمیشن کے اس حکم کو معطل کر دیا جس میں کھلاڑیوں کی تنخواہوں اور مالی تفصیلات جاری کرنے کا کہا گیا تھا۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم پیش رفت میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو بڑی ریلیف دیتے ہوئے پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) کے اس حکم کو معطل کر دیا ہے جس میں بورڈ کو اپنے سالانہ بجٹ، آڈٹ رپورٹس، قومی کھلاڑیوں کی تنخواہوں اور سلیکشن کمیٹی کے ارکان کے اخراجات کو عام کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں سنگل رکنی بینچ نے پی سی بی کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے پی آئی سی کے 9 جولائی کے حکم پر عمل درآمد روکتے ہوئے تمام فریقین کو 22 ستمبر 2026 تک نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ انفارمیشن کمیشن کا حکم دائرہ اختیار سے تجاوز ہے اور یہ 'رائٹ آف ایکسس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017' کے منافی ہے۔ بورڈ کے وکیل کا کہنا تھا کہ کمیشن نے اس بات کا فرق نہیں کیا کہ کون سی معلومات عوام کے سامنے لائی جانی چاہئیں اور کون سی معلومات ذاتی رازداری، معاہدوں کی حساسیت اور تجارتی مفادات کے تحت محفوظ ہیں۔ پی سی بی کا مزید کہنا تھا کہ بورڈ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ تجارتی سرگرمیوں سے کماتا ہے نہ کہ حکومتی فنڈز سے، اس لیے ہر قسم کی مالی تفصیلات کو پبلک کرنا بورڈ کی خودمختاری کے خلاف ہے۔ یہ معاملہ طویل عرصے سے بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ خاص طور پر چیئرمین محسن نقوی کی تقرری کے بعد سے پی سی بی نے اپنی ویب سائٹ پر تفصیلی مالیاتی گوشوارے شائع کرنے کا عمل روک دیا ہے، جس پر شفافیت کے حامیوں اور ناقدین کی جانب سے شدید تنقید کی جاتی رہی ہے۔ درخواست گزاروں کا اصرار ہے کہ ایک قومی ادارے کے طور پر پی سی بی کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے، جبکہ پی سی بی کا موقف ہے کہ بعض معلومات ایسی ہیں جن کا افشاء تجارتی مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور یہ کھلاڑیوں کی پرائیویسی کا بھی معاملہ ہے۔ عدالت نے پی سی بی کی جانب سے دی گئی استثنیٰ کی درخواست کو بھی منظور کر لیا ہے، تاہم یہ منظوری تمام قانونی تقاضوں کے تابع ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق 22 ستمبر کو ہونے والی اگلی سماعت میں یہ فیصلہ ہوگا کہ کیا پی سی بی واقعی اپنی مالی تفصیلات کو خفیہ رکھنے کا قانونی حق رکھتا ہے یا اسے شفافیت کے اصولوں کے تحت معلومات فراہم کرنی ہوں گی۔ اس وقت تک کے لیے پی سی بی کو کھلاڑیوں اور بورڈ کے دیگر اخراجات کو پبلک کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔