Politics
آزاد کشمیر الیکشن: ایل اے 27 اور 28 کے نتائج، ن لیگ اور پی پی پی میں کانٹے کا مقابلہ
مظفرآباد ڈویژن کے دو حلقوں میں ضمنی انتخابات کے غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ایک ایک نشست پر برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔ انتخابی عمل کے دوران دونوں جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے پر دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔
آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد ڈویژن کے دو اہم انتخابی حلقوں ایل اے 27 اور ایل اے 28 میں منگل کے روز ہونے والی پولنگ کے بعد سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق، دونوں بڑی سیاسی جماعتیں یعنی پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی ایک ایک نشست حاصل کرنے کے قریب ہیں۔ حلقہ ایل اے 28 (لچھرٹ) میں پیپلز پارٹی کے سید بازل علی نقوی اپنے حریف امیدوار مسلم لیگ (ن) کے چوہدری شہزاد محمود کے مقابلے میں معمولی برتری برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس حلقے میں موسم کی خرابی اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پولنگ تعطل کا شکار ہوئی تھی، تاہم منگل کو باقی ماندہ پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹ ڈالے گئے۔
دوسری جانب حلقہ ایل اے 27 (کٹلہ) میں جہاں پولنگ مکمل طور پر ملتوی کر دی گئی تھی، وہاں منگل کے روز تمام 197 پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹ ڈالے گئے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی امیدوار نورین عارف کو استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار سردار تبارک علی کے مقابلے میں دو سو سے کم ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کے ووٹوں کی گنتی کے بعد یہ برتری مزید مستحکم ہو جائے گی۔ اس کامیابی کی توقع پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے رات گئے تک ڈھول کی تھاپ پر جشن منایا۔
انتخابی عمل کے دوران دونوں حلقوں میں دھاندلی کے الزامات کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری نے پیپلز پارٹی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کر کے کہا کہ شکست پر رونے کے بجائے سیاسی وقار کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کے عوام نے کارکردگی پر ووٹ دیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے الزامات لگائے کہ ایل اے 27 میں مسلم لیگ (ن) کے ایک حامی کے گھر سے بیلٹ پیپرز برآمد ہوئے ہیں اور انتخابی عمل کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ شیریں رحمٰن نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان اور سینئر رکن خواجہ محمد احسن نے میڈیا کو بتایا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے جمع کرائی گئی ویڈیوز فی الحال غیر مصدقہ ہیں اور ان کا فرانزک آڈٹ کیے بغیر انہیں دھاندلی کا ثبوت نہیں مانا جا سکتا۔ آزاد کشمیر کے ان دو حلقوں میں پولنگ کے دوران کہیں کہیں کشیدگی اور فائرنگ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے جس سے انتخابی ماحول خاصا گرم رہا۔ اب تمام نظریں حتمی نتائج کے اعلان اور الیکشن کمیشن کی جانب سے ان شکایات پر کیے جانے والے فیصلوں پر مرکوز ہیں۔