Pakistan
ملک بھر کی عدالتوں میں خواتین کے لیے خصوصی مراکز کا قیام
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ خواتین سائلین کو انصاف کی فراہمی آسان بنانے کے لیے ملک بھر کی عدالتوں میں خصوصی سہولت مراکز قائم کیے جائیں گے۔ یہ مراکز 2026-27 کے دوران قائم کیے جائیں گے جن کا مقصد خواتین کے لیے ایک محفوظ اور باوقار عدالتی ماحول فراہم کرنا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کراچی رجسٹری میں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی خواتین نمائندگان سے خطاب کرتے ہوئے ایک انتہائی اہم اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ عدالتی نظام میں خواتین سائلین کو درپیش مشکلات کے خاتمے اور انہیں ایک محفوظ، باوقار اور قابل رسائی ماحول فراہم کرنے کے لیے ملک بھر کی عدالتوں میں 'ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز' قائم کیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کی پرائیویسی، سیکیورٹی اور عدالتی خدمات تک ان کی آسان رسائی کو یقینی بنانا ہے۔
چیف جسٹس کے مطابق، ان مراکز میں خواتین کے لیے مختص استقبالیہ، انتظار گاہیں، علیحدہ داخلی راستے، واش رومز، میٹنگ رومز اور متبادل تنازعات کے حل کی سہولیات موجود ہوں گی۔ اس کے علاوہ ان مراکز میں قانونی مشاورت اور نفسیاتی معاونت کی خدمات بھی فراہم کی جائیں گی۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے بتایا کہ نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی کے فیصلے کے تحت سال 2026-27 کو 'خواتین سائلین کی سہولت کا سال' قرار دیا گیا ہے، جس کے دوران یہ تمام تر تنصیبات عمل میں لائی جائیں گی۔
اس منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے زیر اہتمام انسٹی ٹیوٹ آف آرکیٹیکٹس پاکستان نے ان مراکز کے ڈیزائن کے لیے ایک قومی سطح کا مقابلہ منعقد کیا تھا، جس میں منتخب کردہ بہترین تین ماڈل ڈیزائنز تمام ہائی کورٹس کو بھجوائے جائیں گے۔ ان ماڈلز کی روشنی میں ملک بھر کی عدالتوں میں یکساں اور جدید سہولیات کے حامل مراکز تعمیر کیے جائیں گے تاکہ خواتین کو عدالتی کارروائی کے دوران کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔
اس اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ظفر احمد راجپوت اور دونوں بار ایسوسی ایشنز کے صدور اور سیکریٹریز بھی موجود تھے۔ خواتین وکلاء نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے انہیں اپنے پیشے اور عدالتی رسائی سے متعلق درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر یقین دہانی کرائی کہ خواتین نمائندگان کی جانب سے اٹھائے گئے تمام نکات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا تاکہ عدالتی نظام کو زیادہ شفاف اور صنفی لحاظ سے حساس بنایا جا سکے۔