LIVE
Loading Breaking News...

براڈ پیک سانحہ: نیپال میں کوہ پیماؤں کو خراجِ تحسین

News Image
پاکستان کے پہاڑی سلسلے براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے ہلاک ہونے والے دس کوہ پیماؤں کی یاد میں نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں شمعیں روشن کی گئیں۔ اس افسوسناک واقعے میں عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما نرمل پرجا سمیت دیگر ماہر کوہ پیماؤں کی موت کو نیپال کی کوہ پیمائی کی تاریخ کا ایک بڑا نقصان قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان کے پہاڑی سلسلے براڈ پیک پر حال ہی میں پیش آنے والے برفانی تودے کے المناک واقعے کے بعد نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں ایک جذباتی فضا قائم ہے۔ منگل کے روز، تقریباً 500 سوگواروں اور بدھ راہبوں نے اس سانحے میں ہلاک ہونے والے دس کوہ پیماؤں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے موم بتیاں روشن کیں۔ اس تقریب کے دوران نیپال کے جھنڈے کی شکل میں موم بتیاں سجائی گئیں اور ہلاک شدگان کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ نیپال نیشنل ماؤنٹین گائیڈ ایسوسی ایشن کے صدر تل سنگھ گرونگ نے اس واقعے کو نیپال کی کوہ پیمائی کی تاریخ کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا اور کہا کہ ملک نے اپنے ماہر کوہ پیماؤں کی ایک پوری نسل کھو دی ہے۔ اس واقعے میں عالمی شہرت یافتہ برطانوی نژاد نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا بھی شامل تھے، جنہوں نے دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو ریکارڈ وقت میں سر کر کے بین الاقوامی شہرت حاصل کی تھی۔ ان کے ساتھ دیگر چھ ماہر نیپالی گائیڈز بھی جان کی بازی ہار گئے۔ ادھر پاکستان کے علاقے ہنزہ میں بھی سوگ کی کیفیت ہے، جہاں مقامی کوہ پیما سہیل سخی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ سہیل سخی کا تعلق علی آباد سے تھا، اور ان کے اہل خانہ نے طویل انتظار اور غیر یقینی صورتحال کے بعد ان کی موت کا باقاعدہ اعلان کیا، جس کے بعد علاقے میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی۔ ریسکیو آپریشن کے حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ خراب موسم کی وجہ سے لاشوں کی بازیابی کا عمل انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ اب تک آٹھ کوہ پیماؤں کی باقیات برآمد کی جا چکی ہیں، جبکہ سہیل سخی اور ایک نیپالی شیرپا کی تلاش ابھی جاری ہے۔ ہیلی کاپٹر آپریشنز موسم کی خرابی کے باعث معطل ہیں، تاہم ریسکیو ٹیمیں پرعزم ہیں کہ جیسے ہی موسم سازگار ہوگا، تلاش کا کام دوبارہ تیز کر دیا جائے گا۔ سکردو میں پہلے سے برآمد کی گئی لاشوں کو ضروری کارروائی کے بعد منتقل کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی کوہ پیما برادری نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی مہارت کے حامل کوہ پیماؤں کی کمی کو پورا کرنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ سہیل سخی کے خاندان کے لیے یہ وقت انتہائی صبر آزما ہے، کیونکہ ان کی والدہ اپنے بیٹے کی موت کی خبر سن کر شدید صدمے کی حالت میں ہسپتال میں داخل ہیں۔ حکومتِ پاکستان اور نیپالی حکام اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور لاشوں کی تلاش کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔