LIVE
Loading Breaking News...

لبنان اسرائیل مذاکرات: حزب اللہ اور حکومت میں شدید اختلافات

News Image
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو لبنان کے لیے ذلت قرار دیا ہے جبکہ وزیر اعظم نواف سلام نے انہیں ملک کو جنگ میں دھکیلنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ روم میں امریکہ کی ثالثی میں جاری مذاکرات کے باوجود دونوں رہنماؤں کے درمیان شدید کشیدگی برقرار ہے۔
لبنان کی سیاسی فضا میں اس وقت شدید تناؤ پیدا ہو گیا ہے جب حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم اور وزیر اعظم نواف سلام کے درمیان اسرائیل کے ساتھ جاری براہ راست مذاکرات پر سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اپنے ایک حالیہ نشریاتی خطاب میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ہونے والی یہ براہ راست بات چیت لبنان کے لیے شرمندگی اور ذلت کے سوا کچھ نہیں لائے گی، اور یہ مذاکرات ملک کے لیے مسلسل سمجھوتوں کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے لبنانی صدر جوزف عون پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ثالث یا متحد کرنے والی شخصیت کے بجائے جانبدارانہ کردار ادا کر رہے ہیں جو لبنان کی خود مختاری کے منافی ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ لبنانی حکام اسرائیل کی مدد کر رہے ہیں جس سے انہیں سیاسی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب وزیر اعظم نواف سلام نے ان الزامات کا کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو سب سے بڑی مدد ان لوگوں نے پہنچائی ہے جنہوں نے یکطرفہ طور پر لبنان کو فضول جنگوں میں دھکیلا اور دشمن کو ملک پر حملے کرنے کے بہانے فراہم کیے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ قومی مفادات کو نظر انداز کر کے لبنان کو بیرونی طاقتوں اور اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کرتے ہیں، انہیں حب الوطنی یا خود مختاری پر لیکچر دینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق، لبنان کی واحد خود مختار حیثیت صرف اس وقت بحال ہو سکتی ہے جب ریاست کا ایک ہی فوج کے ذریعے پورے علاقے پر اختیار قائم ہو۔ اس سیاسی رسہ کشی کے بیچ، روم میں امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مذاکرات کا ساتواں دور جاری ہے۔ اس مذاکراتی عمل کا مقصد جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلاء یقینی بنانا ہے۔ اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تعمیری روح کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں تاکہ فریم ورک معاہدے پر مکمل عمل درآمد ممکن ہو سکے۔ اگرچہ گزشتہ ماہ کچھ علاقوں سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کے بعد لبنانی فوج وہاں تعینات ہوئی ہے، لیکن حزب اللہ کا موقف ہے کہ جب تک جنوبی گاؤں اور قصبوں کی تباہی جاری ہے، اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ حزب اللہ نے متاثرہ علاقوں میں دوبارہ تعمیر نو کے عزم کا اعادہ بھی کیا ہے، تاہم انہوں نے انتباہ کیا ہے کہ اس طویل اور مشکل عمل کے لیے عوام کو صبر سے کام لینا ہوگا۔