Politics
محسن نقوی کا بیان اور پاکستان کا سیاسی مستقبل
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے موجودہ حکومتی نظام کی ناکامی کا اعتراف ملکی سیاست میں ایک بڑی ہلچل کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیانات کسی بڑے سیاسی اور انتظامی تبدیلی کے اشارے ہو سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے حالیہ پاکستان اکنامک سمٹ میں دیا گیا بیان ملکی سیاسی حلقوں میں بحث کا نیا موضوع بن گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ملک کا موجودہ حکومتی نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور یہ مسائل کے حل میں بنیادی طور پر غیر مؤثر ہے۔ محسن نقوی کا یہ بیان اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ وہ خود اسی نظام کا ایک کلیدی حصہ ہیں، جسے وہ اب مسترد کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ محض ایک ذاتی رائے نہیں بلکہ ملک کے سیاسی و انتظامی ڈھانچے میں کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔
محسن نقوی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں ہائبرڈ نظام کے مستقبل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے بیان کی تائید عسکری ترجمان کی جانب سے بھی کی گئی، جس میں انتظامی بہتری کے لیے نئے یونٹس کے قیام اور گورننس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا گیا۔ وفاقی حکومت کے اندر اس بیان پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں، جہاں کچھ وزراء محسن نقوی کے مینڈیٹ اور ان کے کام کرنے کے انداز پر تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ خواجہ آصف جیسے سینئر وزراء کا انہیں 'پاور ہاؤس' قرار دینا اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ نقوی حکومت کے اندر ایک خودمختار حیثیت رکھتے ہیں جو کابینہ یا پارلیمنٹ کو جوابدہ نہیں ہیں۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ بیان صرف تنقید نہیں بلکہ ایک سیاسی و انتظامی 'ری سیٹ' کا منصوبہ ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں سویلین حکومتوں کی مدت ہمیشہ مختصر رہی ہے اور اس طرح کے بیانات موجودہ اتحادی حکومت کی بقا کے حوالے سے بھی شکوک و شبہات کو جنم دے رہے ہیں۔ تاہم، یہ بات بھی قابل غور ہے کہ وزیر داخلہ نے نظام کی خرابیوں کا ذکر تو کیا لیکن اس کی بنیادی وجوہات، بشمول سیکیورٹی اداروں کے سیاسی معاملات میں اثر و رسوخ، پر خاموشی اختیار کی۔ صرف انتظامی اکائیاں بنانے یا ڈھانچے میں تبدیلی کرنے سے ملک کے دیرینہ مسائل حل نہیں ہوں گے، جب تک کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور جمہوری اقدار کی بحالی کو یقینی نہ بنایا جائے۔
اس سب کے درمیان، ملک کی داخلی سیکیورٹی کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ خیبر پختونخوا اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات نے ریاستی رٹ کو چیلنج کر دیا ہے۔ سوات جیسے پرامن اضلاع میں سیکیورٹی فورسز پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ صرف انتظامی تبدیلیوں کی بحث سے امن و امان قائم نہیں ہو سکتا۔ موجودہ سیاسی کشمکش اور نظام کی تبدیلی کی بحثوں کے دوران عوام کو درپیش اصل مسائل، جیسے کہ معاشی بدحالی اور امن و امان کی خراب صورتحال، پس پشت جا رہے ہیں، جو آنے والے دنوں میں مزید سیاسی عدم استحکام کا سبب بن سکتے ہیں۔