LIVE
Loading Breaking News...

امریکی پالیسی میں تضاد، ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کا مستقبل غیر یقینی

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف پالیسی مکمل ناکامی سے دوچار ہے جس کے باعث وائٹ ہاؤس میں حکمت عملی کا فقدان واضح نظر آ رہا ہے۔ ایران کے خلاف جاری حالیہ تنازعہ کے نتائج توقعات کے برعکس نکلے ہیں جس نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ جاری تنازعے میں کسی واضح حکمت عملی کا فقدان اب عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات میں تضاد اس بات کا ثبوت ہے کہ وائٹ ہاؤس کسی ایک نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہا ہے۔ ایک جانب صدر ٹرمپ ایران کو تباہی کی دھمکیاں دیتے ہیں تو دوسری جانب چند گھنٹوں کے اندر ہی امن مذاکرات کی بات کرتے ہیں۔ یہ غیر مستقل مزاجی نہ صرف غیر ذمہ دارانہ سفارت کاری کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس سے امریکی انتظامیہ کی داخلی کمزوری بھی عیاں ہوتی ہے۔ حالیہ پانچ ماہ کی جنگ نے یہ ثابت کیا ہے کہ ایرانی قیادت ان دھمکیوں سے مرعوب ہونے کے بجائے اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے، جبکہ امریکی حکام اب نئی حکمت عملیوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ نے اسرائیل کے دباؤ میں آکر بغیر کسی ہوم ورک کے اس جنگ کا آغاز کیا۔ اگر امریکی قیادت افغانستان، عراق اور لیبیا میں اپنے پیشروؤں کی غلطیوں سے سبق حاصل کرتی تو شاید آج اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ رپورٹس کے مطابق امریکی فوج اب اہم گولہ بارود کی کمی کا سامنا کر رہی ہے اور سینٹ کام (Centcom) جیسے ادارے دفاعی ماہرین سے ایران کو سزا دینے کے لیے 'تخلیقی اور غیر روایتی' راستے تلاش کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ واشنگٹن میں پالیسی سازی کا عمل مکمل انتشار کا شکار ہے۔ یہاں تک کہ سعودی عرب بھی اب سفارت کاری کے حق میں آواز اٹھا رہا ہے کیونکہ خطے میں کسی بھی قسم کی مزید بڑی جنگ کا مطلب پورے خطے کی تباہی ہو گا۔ آپریشن 'ایپک فیوری' کے ناکام ہونے کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا نے اپنے مقاصد میں سے ایک بھی حاصل نہیں کیا؛ ایران کے جوہری عزائم برقرار ہیں، علاقائی اتحادیوں کی حمایت جاری ہے اور آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کی تبدیلی کا امریکی و اسرائیلی خواب بھی الٹا پڑ گیا ہے، کیونکہ اب وہاں کی قیادت زیادہ سخت گیر اور نظریاتی ہو چکی ہے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کا کردار بطور ثالث انتہائی اہم ہو گیا ہے جو اسلام آباد مفاہمت نامے کے تحت کشیدگی کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ اگر امریکا نے اب بھی دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھا تو وہ ایران کے اس دلدل میں مزید دھنستا چلا جائے گا، جس سے نکلنا اس کے لیے مشکل ہو جائے گا۔