Business
سونے کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی مارکیٹ میں نئی صورتحال
بین الاقوامی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھی گئی ہے جس کی بڑی وجہ ڈالر کی قدر میں گراوٹ اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہے۔ سرمایہ کار اب محفوظ اثاثے کے طور پر سونے کی خریداری کو ترجیح دے رہے ہیں۔
عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی قدر میں کمی اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے نرخوں میں گراوٹ ہے۔ سرمایہ کاری کے ماہرین کے مطابق جب ڈالر کمزور ہوتا ہے تو سونے کی طلب میں خود بخود اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ یہ غیر ملکی کرنسی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے سستا پڑتا ہے۔ موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں، سونے کو ایک محفوظ اثاثہ سمجھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر اس کی خریداری کا رجحان بڑھ گیا ہے۔
دوسری جانب، خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا براہ راست اثر عالمی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ تیل کے نرخ گرنے سے افراط زر کے خدشات میں کچھ حد تک کمی آئی ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا ہے کہ وہ اپنے اثاثوں کو سونے کی شکل میں محفوظ بنائیں۔ جب توانائی کے وسائل سستے ہوتے ہیں تو عالمی مارکیٹ میں تجارتی سرگرمیاں ایک نئے رخ پر چل پڑتی ہیں، اور اس وقت سونا ایک مستحکم انتخاب کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر ڈالر کی قدر میں مزید کمی آتی ہے تو سونے کی قیمتیں نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہیں۔ دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کے ذخائر بڑھانے کی خبریں بھی قیمتوں کو سہارا دے رہی ہیں۔ اگرچہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بدستور موجود ہے، لیکن مجموعی طور پر سونے کی مارکیٹ فی الحال تیزی کے رجحان کی طرف گامزن ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مارکیٹ کے حالیہ رجحانات پر گہری نظر رکھیں تاکہ بہتر فیصلے کر سکیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کی مقامی مارکیٹوں پر بھی ان عالمی قیمتوں کا اثر براہ راست دیکھا جا سکتا ہے۔ مقامی سطح پر بھی سونے کی قیمتوں میں اضافے کے رجحان نے جیولری کی صنعت کو متاثر کیا ہے، تاہم سرمایہ کاری کی غرض سے سونے کی خریداری اب بھی لوگوں کی اولین ترجیح بنی ہوئی ہے۔ ماہرینِ معیشت اس صورتحال کو عالمی معاشی توازن کے بدلتے ہوئے اشاریوں کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔