World
ایران امریکا مذاکرات اور آبِ ہرمز معاہدے کی خبریں
عمان کی وساطت سے آبِ ہرمز کے امور پر ہونے والے مذاکرات میں اہم پیشرفت دیکھی گئی ہے جس کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان کسی بڑے معاہدے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ عالمی سطح پر اس پیشرفت کو مثبت انداز میں لیا جا رہا ہے اور مختلف رہنماؤں نے اس پر امید کا اظہار کیا ہے۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی میں کمی کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں کیونکہ آبِ ہرمز کے امور پر جاری مذاکرات میں اہم پیشرفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ عمان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات نے خطے میں امن کی امیدوں کو تازہ کر دیا ہے، جبکہ امریکی حکام نے بھی اس ممکنہ معاہدے کے حوالے سے گہرے اچھے اشارے دیے ہیں۔ اس پیشرفت کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں بالخصوص امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بھی ایک مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے جہاں سرمایہ کاروں نے اس خبر کا خیرمقدم کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات طے پانے کے قریب ہیں اور آئندہ چند دنوں میں کوئی اہم اعلان سامنے آ سکتا ہے۔ امریکی عہدیداروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر فریقین اسی لچک کا مظاہرہ کرتے رہے تو خطے میں جاری تنازعات کے خاتمے اور جنگ بندی کے لیے راستہ ہموار ہو جائے گا۔ قطر اور دیگر علاقائی ممالک بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب ایرانی حکام بھی عمان کی وساطت سے ہونے والی ان بات چیت میں مثبت رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت دونوں حریف ممالک کے مابین کئی سالوں سے جاری سرد مہری کو کم کرنے میں ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ اگرچہ دونوں اطراف سے تاحال حتمی تفصیلات کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، تاہم بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں اس بات چیت کو انتہائی سنجیدہ اور نتیجہ خیز قرار دیا جا رہا ہے۔
آبِ ہرمز بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، اور اس خطے میں استحکام پوری دنیا کی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا فیصلہ ہوگا کہ آیا یہ سفارتی کوششیں ایک دیرپا معاہدے کی شکل اختیار کر پاتی ہیں یا نہیں۔ دنیا بھر کے نگاہیں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ تہران اور واشنگٹن اس موقع کو بروئے کار لاتے ہوئے کس طرح آگے بڑھتے ہیں۔